33

راولپنڈی صدر کشمیر روڈ جائیداد سے متعلق معاملے نے نیا موڑ لے لیا



بلڈنگ سیکشن میں تعینات عملے کے لا علم ہونے کے سبب مذکورہ جائیداد کی سرکاری جگہ قرار دیا جانے پر مالک بتانے والے شارجیل راجہ کا مؤقف سامنے آ گیا

کنٹونمنٹ بورڈ کے عملے کے لا علم ہونے پر اٹھتے سوال ، ہفتوں انتظار کروانے کے بعد بھی متذکرہ جگہ کی قانونی حیثیت سے لاعلمی کا ظہار کیا جانے کے بعد خبر شائع کی گئی، ادارہ

موقف سامنے آنے پر روزنامہ عوامی مشن نے اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق موقف کو شائع کر دیا ہے لیکن ابھی تحقیق جاری ہے کوئی اور چیز سامنے آئی تو اسکو بھی شائع کیا جائیگا ، ادارہ


راولپنڈی (مدثر الیاس)کشمیر روڈ، راولپنڈی صدر پر واقع جائیداد نمبر 132-B کے معاملے نے بلڈنگ کنٹرول اور کنٹونمنٹ انتظامیہ کے ریکارڈ اور دعوؤں پر سنگین سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک جانب متعلقہ انسپیکٹر زبانی طور پر اس جگہ کو سرکاری اراضی قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب 37 سالہ ملکیت، منظور شدہ نقشے، GLR اندراج اور حد بندی رپورٹس موجود ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں، مگر تاحال کوئی بھی ادارہ تحریری طور پر اپنی ذمہ داری لینے کو تیار دکھائی نہیں دیتا۔روزنامہ عوامی مشن کی جانب سے خبر کی اشاعت سے قبل اس جائیداد کی قانونی حیثیت جاننے کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں سے باضابطہ رابطہ کیا گیا، تاہم متعدد ہفتوں کی کوششوں کے باوجود کسی بھی ذمہ دار افسر یا متعلقہ عملے نے تحریری یا مستند ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔ ایریا بلڈنگ انسپیکٹر نے زبانی طور پر اس مقام کو نجی ملکیت کے بجائے سرکاری اراضی قرار دیا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت، سرکاری نوٹیفکیشن یا ریکارڈ پیش نہ کیا جا سکا۔
دوسری جانب، جائیداد کے مالک ہونے کا دعویٰ کرنے والے راجہ شارجیل کی جانب سے روزنامہ عوامی مشن کو ایک تفصیلی تحریری مؤقف موصول ہوا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ جائیداد نمبر 132-B گزشتہ 37 برسوں سے ان کے والد راجہ گلتاب کی ذاتی اور قانونی ملکیت ہے۔ ان کے مطابق اس دعوے کی مکمل تائید میں تمام متعلقہ قانونی و سرکاری دستاویزات موجود ہیں، جن میں رجسٹرڈ رجسٹری، جنرل لینڈ رجسٹر (GLR) میں اندراج، کنٹونمنٹ بورڈ سے منظور شدہ بلڈنگ پلان، دکانوں کی ملکیتی دستاویزات اور دیگر سرکاری ریکارڈ شامل ہیں، جو کسی بھی مجاز فورم پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔راجہ شارجیل کا مزید کہنا ہے کہ مذکورہ جائیداد کی باضابطہ حد بندی (Demarcation) متعلقہ محکموں کی جانب سے مکمل کی جا چکی ہے۔ حد بندی رپورٹ کے مطابق نہ تو سڑک پر کسی قسم کی تجاوزات قائم ہیں اور نہ ہی سرکاری اراضی پر قبضے کا کوئی ثبوت سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق یہ رپورٹ لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کینٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہے، جو جائیداد کی قانونی حیثیت کی واضح تصدیق کرتی ہے۔قانونی ماہرین اس حوالے سے کہتے ہیں کہ کنٹونمنٹ علاقوں میں زمین اور تعمیرات سے متعلق ریکارڈ کنٹونمنٹس ایکٹ 1924، وزارتِ دفاع کے قواعد اور کنٹونمنٹ بورڈ کے بلڈنگ بائی لاز کے تحت مرتب کیا جاتا ہے۔ ان قوانین کے مطابق کسی بھی جائیداد کو غیر قانونی یا سرکاری قرار دینے سے قبل GLR اندراج، منظور شدہ نقشہ، حد بندی رپورٹ اور ریکارڈ آف رائٹس کا مکمل اور باقاعدہ جائزہ لینا لازم ہے۔ بغیر تحریری نوٹس، شفاف انکوائری اور مستند دستاویزی شواہد کے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ 22 دسمبر کو راولپنڈی صدر کے علاقے میں تجاوزات کے خلاف کیے گئے آپریشن کے دوران بلڈنگ کنٹرول سیل کے انچارج اور سپر چیکر نے مبینہ طور پر اس مقام پر قائم کوئٹہ کیفے کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا، جسے غیر قانونی تعمیر قرار دیا جا رہا ہے۔تاہم جب راجہ شارجیل کا تحریری مؤقف سامنے آنے کے بعد بلڈنگ انسپیکٹر سے دوبارہ وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے اپنا مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ جگہ سرکاری اراضی ہے، جبکہ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ انہیں GLR، حد بندی رپورٹ یا باضابطہ سرکاری نشاندہی سے متعلق مکمل معلومات حاصل نہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان خود محکمانہ تضاد، ریکارڈ کی عدم دستیابی اور پیشہ ورانہ غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔صورتحال میں مزید ابہام اس وقت پیدا ہوا جب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ آج بلڈنگ کنٹرول سیل اور انفورسمنٹ ٹیم جائیداد نمبر 132-B کے خلاف کارروائی کے لیے موقع پر پہنچی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہاں قائم کوئٹہ کیفے غیر قانونی ہے۔اس تمام صورتحال نے ایک بنیادی اور سنگین سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے پاس قانونی اور غیر قانونی جائیدادوں کا کوئی مستند، تحریری اور اپڈیٹڈ ریکارڈ موجود ہے، یا محض اندازوں، زبانی اطلاعات اور مفروضوں کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں؟.راجہ شارجیل نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی قانونی جانچ پڑتال، انکوائری اور دستاویزی تصدیق میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے مطابق بغیر تحریری ریکارڈ، قانونی بنیاد اور سرکاری ثبوت کے عائد کیے گئے الزامات کو وہ یکسر مسترد کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق روزنامہ عوامی مشن اپنی ذمہ دار اور غیرجانبدار صحافتی پالیسی کے تحت اس معاملے میں کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کینٹ سے مزید باضابطہ تصدیق حاصل کر رہا ہے، تاکہ دستیاب سرکاری ریکارڈ، حد بندی رپورٹس اور GLR اندراجات کا جامع اور غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کے بعد قارئین کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔روزنامہ عوامی مشن نے اصولی صحافت کے تقاضوں کے مطابق جائیداد کے مبینہ مالک کا مؤقف شائع کر دیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ آئندہ اگر کوئی نیا سرکاری مؤقف، دستاویزی ثبوت یا کسی بھی فریق کا مؤقف سامنے آیا تو اسے بھی حقائق کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں