5

ہمارے افطار دسترخوان عبادت یا سماجی دکھاوا؟

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​رمضان کا مہینہ جہاں اللہ کی رحمتیں لاتا ہے، وہیں افطار کا وقت ہمارے لیے عبادت کا ایک خاص موقع ہوتا ہے لیکن افسوس کہ آج ہم نے اس پیاری روایت کو بھی محض دکھاوا اور نمائش بنا دیا ہے۔ اب ہماری افطار پارٹیاں اللہ کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے اور تعلقات بنانے کا ذریعہ بن چکی ہیں حالانکہ روزہ افطار کروانے کا ثواب تو اتنا زیادہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی روزے دار کا روزہ افطار کروایا، اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزہ رکھنے والے کو ملے گا اور روزہ رکھنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ آج جب ہم افطار پارٹی کے لئے لسٹ بناتے ہیں تو ہمارا مقصد ثواب نہیں بلکہ اپنا مفاد ہوتا ہے۔ ہمارا تضاد دیکھو تو پتہ چلتا ہے کہ ہم افطار پر ان لوگوں کو بڑے شوق سے بلاتے ہیں جن کے اپنے گھروں میں پہلے ہی طرح طرح کے پھل، جوس اور بہترین کھانے موجود ہوتے ہیں، ہم دراصل ان پیٹ بھروں کے پیٹ بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں ہماری دعوت کی کوئی خاص حاجت نہیں؛ کیا یہ ہمارا دوہرا معیار نہیں ہے کہ ہمارے دسترخوان پر امیر رشتہ دار تو موجود ہے جس نے اپنی مہنگی گاڑی ہماری دہلیز پر کھڑی کر کے محلے کو مرعوب کیا لیکن وہ غریب رشتے دار، پڑوسی یا بیوہ پڑوسن مدعو نہیں جس کے چولہے سے دھواں اٹھے کئی دن بیت گئے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کیا اللہ کو ہمارے ان کھانوں کی خوشبو پہنچ رہی ہے یا صرف ہمارے تکبر کا دھواں؟ ستم ظریفی تو دیکھیے کہ اب ہماری عبادت صرف دسترخوان تک محدود نہیں رہی بلکہ کیمرے کی زد میں ہے، افطار پارٹی کی تصویریں اور ویڈیوز محض تشہیر اور نمائش کے لیے سوشل میڈیا پر اس طرح ڈالی جاتی ہیں جیسے یہ کوئی تقریب نہیں بلکہ کوئی کاروباری اشتہار ہو۔ پہلے بزرگ کہتے تھے کہ “نیکی کر کنویں میں ڈال” لیکن آج کے دور کا بدلا ہوا نعرہ یہ ہے کہ “نیکی کر اور سوشل میڈیا پہ ڈال”۔ ہماری انگلیاں تسبیح کے دانوں پر کم اور موبائل پر زیادہ متحرک رہتی ہیں تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ہمارا دسترخوان کتنا وسیع ہے۔ دراصل یہ افطار ہمارے لیے ایک کاروباری سودا ہے تاکہ ہمارے بڑے افسر اور بااثر لوگ کل کو ہمارے کام آ سکیں کیونکہ دانا لوگوں کا کہنا ہے کہ “نیت صاف تو منزل آسان”۔ سچ تو یہ ہے کہ “اندھا بانٹے ریوڑیاں، اپنوں ہی کو دے”، ہم ثواب بانٹنے نکلے ہیں مگر بانٹ صرف اسے رہے ہیں جس سے ہمیں دنیاوی فائدہ پہنچ سکے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری افطار پارٹیاں کیسی ہونی چاہیے تھیں؟ ہمارا افطار کا دسترخوان تو وہ تھا جہاں غریب اور امیر ایک ہی صف میں بیٹھتے، جہاں ہمارا پہلا مہمان وہ سفید پوش ہوتا جو کسمپرسی میں بھی ہاتھ نہیں پھیلاتا، جہاں محلے کا وہ یتیم بچہ ہمارے برابر بیٹھ کر کھاتا جسے باپ کی کمی محسوس نہ ہوتی مگر یہاں تو نیت ہی یہ ہے کہ “اس نے مجھے بلایا تھا، اب مجھے بھی اسے بلانا پڑے گا” اور یہ صلہ رحمی نہیں بلکہ محض ایک لین دین ہے، اب “ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور” والا حساب بن چکا ہے۔ اسی نمائش میں ہماری نظریں اپنے گلی محلے کے اس طبقے کو نہیں دیکھ پاتیں جو فاقہ تو کر لے گا مگر غیرت کا سودا نہیں کرے گا، ہم ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو اتنی ہمت نہیں رکھتے کہ اپنے گھر والوں کو بیوی بچوں کو اچھا افطار کروا سکیں مگر وہ خاموشی سے جو میسر آیا اسی روکھے سوکھے لقمے پر شکر کر لیتے ہیں۔ افسوس! ہم اپنی افطار پارٹی پر صرف ان صاحبِ ثروت اور خوش حال لوگوں کے پیٹ بھر رہے ہیں جن کے دسترخوان پہلے ہی سجے ہوئے ہیں؟ تم ہر اس غریب کو نظر انداز کر دیتے ہو جسے تمہاری افطار پارٹی کی زیادہ ضرورت تھی، شاید اس لئے کہ اس کے پرانے کپڑے تمہاری محفل کا “سٹیٹس” خراب کر دیں گے حالانکہ یاد رکھنا چاہیے کہ “غریب کی ہائے اور امیر کی رائے” بہت اثر رکھتی ہے؛ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دسترخوان پر “رزق” نہیں بلکہ اپنی “انا” سجا کر بیٹھے ہیں؟ یاد رکھو کہ آخرت میں وہی لقمہ تمہارے کام آئے گا جو کسی ضرورت مند کے پیٹ میں گیا ہو کیونکہ “کھایا پیا مٹی ہوا، دیا لیا کام آیا”، بزرگ ٹھیک ہی کہہ گئے ہیں کہ “نیکی کر کنویں میں ڈال”، مگر ہم تو نیکی کر کے اسے اشتہار بنا دیتے ہیں؛ اگر ہمارے دسترخوان پر کوئی ایسا غریب نہیں بیٹھا جو تمہیں بدلے میں کچھ نہ دے سکے تو ہماری یہ افطاریاں محض ایک تماشہ ہیں کیونکہ خالی برتن ہی زیادہ شور مچاتے ہیں اور جس عبادت میں خلوص نہ ہو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔ اے اللہ! ہمیں اس پاک مہینے میں دکھاوے اور غرور سے بچا اور ہمارے دسترخوانوں کو غریبوں کی محبت سے بھر دے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی خوشیوں میں ان لوگوں کو یاد رکھیں جن کا کوئی سہارا نہیں، ہمارے روزوں اور افطاریوں کو قبول فرما اور ہمارے دلوں میں انسانیت کی تڑپ پیدا کر دے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں