4

پنجاب میں 38 ہزار سے زائد سرکاری اسامیوں کا خاتمہ تعلیم یافتہ طبقے کا معاشی قتل ہے۔


حکومت نے روزگار کے مواقع ختم کر کے نوجوانوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
اساتذہ کی کمی پہلے ہی سنگین مسئلہ ہے، مزید اسامیوں کے خاتمے سے تعلیمی معیار مزید متاثر ہوگا۔
امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کا سرکاری نوکریوں کے خاتمے پر گہری تشویش کا اظہار


لاہور:امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے 38 ہزار 492 سرکاری اسامیوں کا خاتمہ تعلیم یافتہ طبقے کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔صوبہ بھر میں زراعت، نہری نظام، جنگلات، ہاؤسنگ اربن اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایجوکیشن اور سپیشل ایجوکیشن کے شعبوں میں خالی اسامیوں کو ختم کیا گیا ہے، جو انتہائی تشویشناک اقدام ہے۔امیرجماعت اسلامی لاہورنے کہا کہ صرف محکمہ تعلیم میں ہی 30 ہزار 391 اسامیوں کا خاتمہ کیا گیا، جس سے نہ صرف ہزاروں نوجوانوں کے روزگار کے مواقع ختم ہوئے بلکہ تعلیمی نظام بھی شدید متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی کمی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے اور مزید اسامیوں کے خاتمے سے تعلیمی معیار مزید گرنے کا خدشہ ہے۔ضیاء الدین انصاری نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نااہل حکمرانوں نے صوبے میں بادشاہت قائم کر رکھی ہے جہاں غریب آدمی کا چولہا بجھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع ختم کر کے نوجوانوں کو مایوسی اور بے روزگاری کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ختم کی گئی اسامیوں کو بحال کرے اور تعلیم سمیت دیگر اہم شعبوں میں بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں اور صوبے کا نظام بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں