7

تحت لاہور ۔۔۔۔ مٹی کا دیومیو ہسپتال کی دہلیز پر موت


تحریر:مدثر قدیر

​اندرون لاہور کی تنگ و تاریک گلیوں میں، جہاں سیاست کا شور اور وفاداریوں کی خوشبو آج بھی رچی بسی ہے، گرو ارجن نگر کا ایک چھوٹا سا مکان اپنی بوسیدہ دیواروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس مکان کے ایک اندھیرے گوشے میں چارپائی پر لیٹا ایک بوڑھا شخص چھت کو تک رہا ہے۔ محلے والے اسے ‘نواز’ کہتے ہیں—یہ نام اس کی اپنی شناخت نہیں بلکہ اس عشق کا ثمر ہے جو اسے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے تھا۔
​یہ وہی ‘نواز’ ہے جس نے 150 سالہ قدیم طبی درسگاہ، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی طرح اپنی زندگی کے کئی عشرے اس نظریے کی آبیاری میں گزار دیے۔ جب الیکشن کا کڑا ماحول تھا اور وفاداریوں کے سودے ہو رہے تھے، یہ شخص گرو ارجن نگر کی گلیوں میں ن لیگ کا جھنڈا اٹھائے سینہ تان کر کھڑا رہا۔ اسے یقین تھا کہ جب اس کے قائد کا ‘صحت مند پنجاب’ کا خواب پورا ہوگا، تو اس جیسے غریب کارکنوں کو ایڑیاں رگڑ کر مرنا نہیں پڑے گا۔
​مگر آج تقدیر کا مذاق دیکھیے؛ وہ ‘نواز’ جو کبھی نعرے لگاتا تھا، آج زندگی کی سانسوں کے لیے ترس رہا ہے۔ اس کے دونوں گردے جواب دے چکے ہیں اور وہ میو ہسپتال کی اس عمارت کے سائے میں دم توڑ رہا ہے جس کی دیواریں تو 150 سال قدیم ہیں مگر وہاں کا نظام ‘انتظامی مصلحتوں’ کے جدید جال میں جکڑا ہوا ہے۔
​حیرت تو اس بات پر ہے کہ میو ہسپتال میں گردہ ٹرانسپلانٹ کے تمام 8 بین الاقوامی پروٹوکولز مکمل ہیں۔ وہاں ماہر سرجنز، جدید ترین آپریشن تھیٹرز اور آئی سی یو موجود ہیں، مگر رکاوٹ ہے تو صرف ایک ‘لائسنس’ کی۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے جب پہلی بار معائنہ کیا تو ہسپتال نے 87 نمبر حاصل کیے، لیکن دوبارہ معائنہ ہوا تو بہتری کے بجائے نمبر کم کر کے 80 کر دیے گئے۔ یہ کیسی منطق ہے کہ سہولیات بڑھ رہی ہیں اور بیوروکریسی کے کاغذوں میں نمبر کم ہو رہے ہیں؟
​لائسنس کے لیے 95 نمبرز کی شرط ایک ایسا پہاڑ بنا دی گئی ہے جسے سر کرنا شاید ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ ‘انڈر پاس’ کی تعمیر جیسے عجیب و غریب اعتراضات اٹھا کر اس وژن کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے جسے مریم نواز شریف نے ‘ہیلتھ ایمرجنسی’ کے نام پر شروع کیا تھا۔
​بوڑھا ‘نواز’ ہسپتال کے وارڈ میں لیٹا سوچتا ہے کہ کیا یہ وہی پنجاب ہے جہاں مریم نواز شریف “مریضوں کو مفت علاج” کی خوشخبری سنا رہی ہیں؟ کیا میاں محمد نواز شریف کو خبر ہے کہ ان کا وہ کارکن جس نے پوری زندگی ‘شیر’ کے نام وقف کر دی، آج محض ایک دستخط کی وجہ سے نجی ہسپتالوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہے؟
​طبی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ یہ سب ‘وی سی’ کی کرسی کا چکر ہے۔ اگر لائسنس جاری کرنے والے اربابِ اختیار خود یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین عہدے کے امیدوار بن جائیں، تو غریب کی زندگی داؤ پر لگنا یقینی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ ‘نمبروں کی دوڑ’ ختم ہوگی اور کسی پسندیدہ شخص کو کرسی مل جائے گی، تب تک کیا گرو ارجن نگر کا یہ ‘نواز’ زندہ بچے گا؟
​مریم نواز شریف اور میاں نواز شریف کا وژن تو ‘دہلیز پر صحت’ تھا، مگر میو ہسپتال کی بیوروکریسی نے اسے ‘دہلیز پر موت’ بنا دیا ہے۔ اگر آج اس 150 سالہ قدیم ادارے کو ایک لائسنس نہ مل سکا، تو تاریخ لکھے گی کہ جب قیادت وژن بانٹ رہی تھی، تب افسر شاہی کی ضد نے ایک وفادار کارکن کو جیتے جی مار دیا تھا۔
​یہ ‘نواز’ اب کسی سیاسی جلسے میں نہیں جا سکتا، مگر اس کی خاموش آنکھیں تختِ لاہور سے سوال کرتی ہیں: “کیا میری وفاداری کی قیمت بیوروکریسی کے چند نمبر اور ایک انڈر پاس ہے؟”۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں