
آج ہم روایتی موضوعات اور روزمرہ کے سیاسی اکھاڑے سے ہٹ کر، ایک ایسی منفرد اور فکری داستان پر بات کرنے جا رہے ہیں جو قلم کی حرمت اور صحافتی جدوجہد کے سچے جذبوں سے عبارت ہے۔ یہ کہانی محض ایک فرد کی نہیں بلکہ شعور کی دہلیز سے صحافت کے افق تک کے اس کٹھن مگر جاندار سفر کی ہے جو مصلحتوں سے آزاد ہو کر ہمیشہ حق کا علمبردار رہا۔ میرے نزدیک صحافت محض خبر رسانی یا الفاظ کے گورکھ دھندے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی مقدس امانت ہے جو معاشرے کے ناسوروں کو بے نقاب کرنے کے لیے غیر متزلزل جرات، گہرے فہم اور وسیع تر ادراک کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ مصلحت پسند قلم کار وقت کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں مگر حق لکھنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ میں نے یکم جنوری 1989 کو پنجاب کے سب سے بڑے ضلع بہاولنگر میں نور محمد بھٹی صاحب کے گھر جنم لیا، اسی مٹی کی خوشبو سے اپنے فکری سفر کی آبیاری کی اور کیڈٹ پبلک اسکول محلہ اسلام نگر سے پرائمری، گورنمنٹ کینال کالونی ہائی اسکول سے مڈل و میٹرک، گورنمنٹ کالج آف کامرس سے ڈی کام اور گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج بہاولنگر سے سول ڈرافٹسمین کا ڈپلومہ مکمل کر کے اپنی تعلیمی و فنی بنیادوں کو استوار کیا۔ میری فطرت میں صحافت کی تڑپ اور حق گوئی کا جذبہ شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انگڑائیاں لینے لگا تھا اور اپنے اسی طالب علمی کے سنہرے دور میں، میں انجمن طلبہ اسلام کے نائب صدر اور چیئرمین ایکشن کمیٹی کے عہدوں پر فائز رہ کر طلبہ کے حقوق کی توانا آواز بنا رہا۔ یہی وہ فکری اور انقلابی دور تھا جب میں اپنے جیب خرچ کو اخبارات خریدنے پر صرف کر دیتا اور اسکول و کالج سے گھر آ کر نہایت اشتیاق سے ان کا گہرا مطالعہ کرتا تھا، جہاں سے میری تحریری صلاحیتوں کو جلا ملی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ میں نے براہِ راست کالم نگاری سے آغاز نہیں کیا بلکہ اپنے ابتدائی دور میں قومی، مذہبی یا سماجی موضوعات اور عوامی مسائل پر تفصیلی و جامع پریس ریلیز تیار کرتا اور اخبارات کے نمائندوں سے گزارش کر کے انہیں زینتِ اشاعت بنواتا تھا۔ چنانچہ میری اسی ابتدائی لگن کو دیکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کے نائب صدر محترم محمد اعظم خان لوہانی صاحب نے ایک دن مجھے خصوصی طور پر کال کی اور بڑے پیار و محبت کے ساتھ سمجھاتے ہوئے کہا کہ “بیٹا! تم میں زبردست قابلیت اور ایبیلیٹی ہے، تم اپنی اس صلاحیت کا درست جگہ پر استعمال کرو، یہ خبریں لگوانا چھوڑو اور باقاعدہ کالم لکھا کرو،” تو میں نے ان کی دی ہوئی اس نئی ڈائریکشن کو دل سے لگایا اور ان سے پختہ وعدہ کیا کہ “سر! اب میں صرف کالم ہی لکھوں گا”۔ لوہانی صاحب کے اسی فکری مشورے اور ان سے اپنے مخلصانہ وعدے کی لاج رکھنے کے لیے میرا قلم ایک نئے عزم کے ساتھ مائلِ پرواز ہوا اور سال 2019 میں، میں پریس ریلیز کے روایتی دائرے سے نکل کر اپنے باقاعدہ کالم نگاری کے سفر کا آغاز کر دیا۔ اپنی تیکھی اور فکری تحریروں کے ذریعے علمی و ادبی حلقوں میں بہت جلد ہی میں نے اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا، جہاں میرے صحافتی سفر کا سنگِ میل اور اسی قلمی وعدے کی پہلی گواہی میرا پہلا کالم “غداری کا فتویٰ” بنا، جس نے علمی حلقوں کو چونکا دیا اور میرے فکری سفر کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ میرے قلم کی یہ پرواز مصلحتوں کی زنجیروں سے آزاد اور ضمیر کی آواز پر دھڑکتی ہے جو لفظوں کی جادوگری کے بجائے ہمیشہ عوامی شعور کی بیداری اور حق گوئی کا علمبردار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں نے مظلوموں اور مجبوروں کا مقدمہ لڑا اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بنا تو میری اٹھائی گئی آواز محض مقامی سطح تک محدود نہ رہی بلکہ نامور ویلاگرز نے سب سے پہلے اس کو اپنے پلیٹ فارمز پر نمایاں کیا، جس کے بعد مین اسٹریم میڈیا کے متعدد نیوز چینلز پر بھی اس پر باقاعدہ بحث کی گئی۔ اسی عوامی اور صحافتی گونج کا نتیجہ تھا کہ جب میں نے گردوں کے عارضے میں مبتلا مسلم لیگ (ن) کے کارکن محمد رمضان عرف جانی کے لیے آواز اٹھائی تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ نے اس کا فوری نوٹس لیا اور مجھے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری صاحبہ کی جانب سے خصوصی کال موصول ہوئی، جس میں انہوں نے مریض کے گردوں کے ٹرانسپلانٹ کی پیشکش کی۔ اسی طرح جب میں نے اپنے محلہ اسلام نگر بہاولنگر میں پینے کے صاف پانی کا سنگین مسئلہ اپنے کالموں میں اٹھایا تو میری اس قلمی آواز کی گونج ایوانِ پنجاب تک پہنچی اور ایم پی اے محترمہ رخسانہ شفیق صاحبہ نے اس عوامی فریاد کو پنجاب اسمبلی کے فلور پر اٹھایا۔ یاد رہے، سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں جب میں نے مصلحت سے پاک کالم “اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھی سیاست کے خیمے میں” لکھا تو حساس ادارے کی جانب سے مجھے باقاعدہ سخت وارننگ بھی دی گئی۔ میں نے ہمیشہ سچ اور حقیقت پر مبنی ہی کالمز لکھے؛ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر میری سیاسی تجزیاتی پوسٹس کو قریباً ایک لاکھ ویوز حاصل ہونا اس عوامی اعتماد کا واضح ثبوت ہے جو میری اصل جمع پونجی ہے۔ یاد رہے، علمی و سماجی جدوجہد کے اسی سفر کے دوران، میں سال 2021 سے نیشنل کالمسٹ کونسل کا ممبر بھی ہوں اور یہ میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ میری صحافتی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے ہیومن رائٹس پروٹیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سال 2025 میں اچیومنٹ سرٹیفکیٹ جیسے گراں قدر اعزاز سے بھی نوازا گیا اور اب حال ہی میں سال 2026 کے آغاز میں ہی میری صحافتی خدمات اور دیانت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صحافی برادری نے مجھے روہی پریس کلب بہاولنگر کا بلا مقابلہ نائب صدر منتخب کیا اور اسی سال 2026 میں میرے قلم کی فلائٹ کو مزید نئی اڑان دیتے ہوئے پاکستان زندہ باد بیسک آرگنائزیشن (PZBO) کی جانب سے مجھے نائب صدر جرنلسٹ ونگ (ضلع بہاولنگر) مقرر کر کے ایک نئی تنظیمی وسعت سے بھی ہمکنار کیا گیا۔ معاشی خودمختاری اور قلم کی مکمل آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے، صحافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ الحمدللہ میرا اپنا ایک ذاتی کاروبار (Business) بھی ہے، تاکہ کسی مالیاتی مصلحت یا بیرونی دباؤ کے بغیر ہمیشہ سچ لکھا جا سکے۔ میری فکری تربیت میں نامور تجزیہ نگار جناب مجیب الرحمٰن شامی صاحب کا گہرا اثر ہے جنہیں میں اپنا آئیڈیل مانتا ہوں، اسی بنا پر میں نے ان کے مشہورِ زمانہ پروگرام کی نسبت سے اپنے کالموں کے لوگو کا نام بھی “نقطہ نظر” رکھا ہے، اس کے ساتھ ساتھ میں معروف کالم نگار جناب جاوید چوہدری صاحب کے اسلوب سے متاثر ہو کر اپنے ہر کالم کا اختتام دعائیہ کلمات پر کرتا ہوں اور اسی عزمِ مصمم اور بلند حوصلے کے ساتھ مستقبل قریب میں اپنے کالموں پر مشتمل ایک جامع کتاب شائع کروانے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں جو نئی نسل کے صحافیوں اور کالم نگاروں کے لیے ایک بہترین علمی تحفہ ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ میرے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور میری مخلصانہ قلمی و سماجی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین