4

ریلوے کی منافع بخش ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ قومی ادارے کو تباہ کرنے کی سنگین سازش ہے: چیئرمین پاکستان ریلوے ایمپلائز پریم یونین ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ

لاہور: پاکستان ریلوے ایمپلائز پریم یونین کے چیئرمین ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ، صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو، چیف آرگنائزر چوہدری خالد محمود، سینئر نائب صدر عبدالقیوم اعوان اور سیکرٹری اطلاعات عبدالرزاق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی منافع بخش ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ قومی ادارے کو کمزور اور تباہ کرنے کی ایک سنگین سازش ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کی منافع بخش ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کے فیصلے نے ریلوے ملازمین اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر منافع کمانے والی ٹرینیں بھی نجی شعبے کے سپرد کی جا رہی ہیں تو یہ ان افسران کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو برسوں سے ریلوے کے انتظامی امور کے ذمہ دار رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ متعلقہ حکام ریلوے کے وسائل اور صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے میں ناکام رہے ہیں۔یونین رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آؤٹ سورسنگ سے متعلق تمام معاہدوں کو مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ قومی اثاثوں کو کن شرائط پر نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ریلوے اور عوام کو کیا حقیقی فوائد حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی بحالی اور ترقی کے لیے دن رات محنت کرنے والے ملازمین اس عمل کے نتیجے میں اپنی سفری سہولیات اور دیگر مراعات سے محروم ہو سکتے ہیں۔ وہ کارکن جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں ادارے کا پہیہ رواں رکھا، آج غیر یقینی صورتحال اور اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید تحفظات کا شکار ہیں۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ ریلوے کے مختلف شعبہ جات میں کام کرنے والے ملازمین پہلے ہی نجی ٹھیکیداروں کے نامناسب رویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئے روز ملازمین کے خلاف کارروائیاں اور چارج شیٹس جاری کی جاتی ہیں جس کے باعث وہ ذہنی دباؤ، پریشانی اور معاشی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف ان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نجی شعبے کے ٹھیکیدار ریلوے ٹرینوں کو منافع بخش انداز میں چلا سکتے ہیں تو پھر پاکستان ریلوے کے اعلیٰ افسران کی ذمہ داری اور کردار کیا رہ جاتا ہے؟ اگر منافع کمانا ممکن ہے تو سرکاری افسران کو دی جانے والی تنخواہوں، مراعات اور وسیع اختیارات کا جواز بھی قوم کے سامنے آنا چاہیے۔یونین رہنماؤں نے زور دیا کہ پاکستان ریلوے ایک قومی ادارہ ہے اور اس کے مستقبل سے متعلق فیصلے جلد بازی یا محدود مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مفاد، شفافیت، ملازمین کے حقوق اور ادارے کی طویل المدتی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے حکومت اور ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ آؤٹ سورسنگ پالیسی پر ازسرِ نو غور کیا جائے، تمام معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور ریلوے ملازمین کے حقوق، مراعات اور ملازمتوں کے مکمل تحفظ کی ضمانت فراہم کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں