8

شہریوں کی چادر، چار دیواری اور جائیداد کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔

متنازع ٹاور بل پر فوری نظرثانی کی جائے، عوام کے بنیادی حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے۔

احتساب صرف وزیر کا نہیں، وزارتِ آئی ٹی کی پوری پالیسی اور ڈرافٹ تیار کرنے والے افسران بھی جوابدہ ہوں

امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ موبائل ٹاور بل پر سخت ترین ردعمل ، تحقیات اور احتساب کا مطالبہ

لاہور (عمرحیات چوہدری) امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکی نے موبائل ٹاورز سے متعلق متنازع قانون پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی چادر، چار دیواری اور جائز جائیداد کے حقوق کو نظر انداز کرنا حکومت کی بدترین نااہلی اور شہری آزادیوں پر براہِ راست حملہ ہے۔ کسی بھی قانون یا پالیسی کو عوام کے بنیادی آئینی حقوق سے بالاتر نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی رہائش گاہ، محلے یا آبادی میں موبائل ٹاور کی تنصیب پر اعتراض کرنے اور اپنی رائے دینے کا مکمل قانونی اور آئینی حق حاصل ہونا چاہیے۔ اگر کسی قانون کے ذریعے شہریوں کی آواز دبانے یا ان کے جائز تحفظات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ناقابل قبول ہوگا۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متنازع بل پر فوری نظرثانی کی جائے اور شہریوں کی جان، صحت، نجی ملکیت اور بنیادی حقوق کے مکمل تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل واقعی متنازع اور عوامی مفادات کے خلاف ہے تو صرف وزیر کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ ذمہ داری ان تمام افراد پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا، قانونی جانچ پڑتال کی، سفارشات دیں اور منظوری کے لیے فائلیں آگے بڑھائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارتِ آئی ٹی کی پوری پالیسی، متعلقہ بیوروکریسی اور اس متنازع ڈرافٹ کی تیاری اور منظوری میں شامل تمام افسران کے کردار کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق ان کا احتساب کیا جائے۔ امیر جماعت اسلامی لاہور نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی شہریوں کے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی ایسے قانون یا فیصلے کی مخالفت کرے گی جو عوام کے بنیادی حقوق، نجی ملکیت اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو متاثر کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں