آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے استحصالی نظاموں کے خلاف کلمہِ حق بلند کرنا ہی معرکہِ کربلا کا حقیقی پیغام ہے۔
امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ
لاہور (عمرحیات چوہدری ): امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے یومِ عاشور کے مقدس اور رقت آمیز موقع پر امتِ مسلمہ کے نام اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکہِ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم اور حریت و ملوکیت کے درمیان ایک ایسا ابدی اور فیصلہ کن خطِ امتیاز ہے جو رہتی دنیا تک مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ نواسہِ رسولؐ، جگر گوشہِ فاطمہؓ، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم الشان شہادت تاریخِ انسانی کا وہ درخشندہ باب ہے جو کائنات کے ہر غیور انسان کو جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہِ حق کہنے کا حوصلہ اور ولولہ عطا کرتا ہے ۔ اپنے پیغام میں امیرِ لاہور نے کربلا کے فلسفے پر گہری روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “نواسہِ رسولؐ نے تپتے ہوئے ریگزار پر اپنے پورے کنبے کی قربانی صرف اپنی ذات، خاندان یا اقتدار کے حصول کے لیے نہیں دی، بلکہ ان کا مقصد مصطفویؐ نظام کی اصل روح کا تحفظ، امت کی اصلاح اور عدل و انصاف کی بالادستی تھا۔ انہوں نے اپنے پاکیزہ خون سے یہ ثابت کیا کہ جب دینِ اسلام کا شورائی و خلافت پر مبنی نظامِ عدل خطرے میں ہو، تو خاموش رہنا اہل حق کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کو کربلا کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ شہادتِ امام حسینؓ کا سب سے بڑا درس ملوکیت، خاندانی بادشاہت، جبر اور جمہوریت کے لبادے میں چھپی آمریت کو مسترد کرنا ہے۔ یزیدیت کسی ایک فرد یا چودہ سو سال پرانے دور کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ نظام یزیدی ہے جہاں طاقت کے بل پر آئین و قانون کو پامال کیا جائے، ناانصافی کا راج ہو اور غریب کا استحصال ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا بھر میں، بالخصوص مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ٹوٹنے والے مظالم عصری یزیدیت کی بدترین مثالیں ہیں، جہاں عالمی طاقتیں باطل کے سامنے سرنگوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی عوام جس معاشی جبر، حقوق کی پامالی اور ناانصافی کی چکی میں پس رہے ہیں، اس استحصالی نظام کے خلاف پرامن اور پُرعزم جدوجہد کرنا ہی وقت کی سب سے بڑی پکار اور حسینی مشن کی روح ہے۔ تبدیلی خاموشی سے نہیں، قربانی اور استقامت سے آتی ہے انہوں نے امتِ مسلمہ، بالخصوص پاکستانی نوجوانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ جو قومیں ظلم کے سامنے مصلحت کا شکار ہو کر جھک جاتی ہیں، وہ اپنی آزادی، غیرت اور وقار ہمیشہ کے لیے کھو دیتی ہیں۔ کربلا کا پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشروں میں حقیقی تبدیلی خاموشی اور جمود سے نہیں، بلکہ حق کے لیے تن من دھن کی قربانی دینے، باطل کے آگے ڈٹ جانے اور صراطِ مستقیم پر استقامت دکھانے سے آتی ہے۔ اقامتِ دین اور انسانی عزتِ نفس کا قیام ہی سید الشہداءؓ کے مشن کا حقیقی حاصل ہے۔ امیر جماعت اسلامی لاہور نے اس موقع پر دعا کی کہ اللہ رب العزت ہمیں حضرت امام حسینؓ، اہل بیتِ اطہار اور ان کے وفادار ساتھیوں کی لازوال قربانیوں کے حقیقی فلسفے کو سمجھنے، ان کے اسوہ کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں نافذ کرنے اور اپنے وطنِ عزیز کو ظلم، ناانصافی اور کرپٹ نظام سے نجات دلا کر ایک حقیقی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
