53

سانحہ لاہور: علم کی تلاش، ایک قومی المیہ

​لاہور کے علاقے کاہنہ میں ہونے والا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں ہے۔ یہ ہماری اجتماعی غفلت اور حکومتی لاپرواہی کا دردناک نشان ہے۔ یہاں علم کی تلاش میں نکلے 14 معصوم بچوں کے چراغ ایک بوسیدہ چھت تلے ہمیشہ کے لیے گل ہو گئے۔ اس واقعے نے 14 گھروں کو اجاڑ دیا اور پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ تعلیم کے حصول کے لیے بچوں کا یوں موت کے منہ میں جانا ہماری تہذیبی شکست ہے۔ ہم نے اپنے تعلیمی مراکز کو محفوظ بنانے کے بجائے انہیں محض منافع کمانے والی دکانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ سانحہ بتاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی حفاظت میں ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ ہماری تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جسے کبھی نہیں بھلایا جا سکے گا۔ یہ المیہ ان سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے جو دفاتر میں بیٹھ کر صرف فائلوں تک محدود ہیں۔ آخر لوکل گورنمنٹ کے زونل افسران کہاں سو رہے ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری عمارتوں کی جانچ پڑتال ہے؟ اس المناک سانحے پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری نوٹس لیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ایکشن لیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ سانحے کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ غفلت برتنے والے ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں اور ٹیوشن سینٹرز کی عمارتوں کے حفاظتی آڈٹ کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے۔ اسی تسلسل میں وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ پنجاب بہت جلد ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن کا باقاعدہ اور شفاف طریقہ کار متعارف کروانے جا رہی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اب وہ تمام ٹیوشن سینٹرز جو گلی محلوں کی غیر محفوظ عمارتوں میں قائم ہیں، انہیں مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اب یہ مہم صرف لاہور تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ضلع بہاولنگر سمیت پورے پاکستان میں تعلیمی عمارتوں کا ہنگامی جائزہ لیا جائے۔ بہاولنگر کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم فوری خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں جو ہر عمارت کا دورہ کر کے اس کی مضبوطی کو پرکھیں۔ اگر آپ کی گلی یا محلے میں کوئی بھی ایسا ٹیوشن سینٹر یا تعلیمی مرکز موجود ہے جو غیر محفوظ یا خستہ حال ہے تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ یہ آپ کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ متعلقہ حکام کو فوری آگاہ کریں تاکہ کسی بڑی ہزیمت اور سانحے سے بچا جا سکے۔ اگر انتظامیہ نے بروقت اقدام نہ کیا تو خدا نخواستہ بہاولنگر میں بھی ایسا واقعہ ہو سکتا ہے۔ بہت دیر ہونے سے پہلے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ کسی بھی بچے کی جان سے بڑھ کر کوئی کام اہم نہیں ہے۔ انتظامیہ کا کام صرف تنخواہ لینا نہیں بلکہ عوام کی حفاظت ہے۔ اس نظام کی تبدیلی کے ساتھ ہمیں بطور شہری بھی بیدار ہونا پڑے گا۔ خاموشی اس جرم میں شرکت کے مترادف ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آواز بلند رکھیں گے۔ ہم اپنے حقوق اور بچوں کی حفاظت کے لیے ہر پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں گے۔ یہ قلم آج ان معصوم روحوں کے نام وقف ہے جو علم کی شمع تھامے خود روشنی بن گئیں، مگر ہمارے نظام کی تاریکیوں میں کھو گئیں۔ ان بچوں کی مسکراہٹیں اب محض یادیں ہیں مگر یہ یادیں ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں۔ ہمارا مشن کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک ایسا تحفظِ نظام تشکیل دینا ہے جہاں کوئی ماں دوبارہ یہ دکھ نہ دیکھے کہ اس کا لختِ جگر گھر لوٹنے کے بجائے قبر کی مٹی میں سو گیا۔ آج کا یہ کالم صرف ایک تحریر نہیں بلکہ ان معصوموں کی طرف سے حکمرانوں اور ضمیر فروشوں کے نام ایک سوالنامہ ہے۔ ہمارا مقصد سسٹم کی اصلاح کرنا ہے تاکہ پھر کوئی ماں اپنے لختِ جگر کو کھونے کا دکھ نہ سہے۔ معاشرے میں قانون کی عملداری تبھی ممکن ہے جب ہم بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور حکام پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے ادا کریں۔ دعا ہے کہ ربِ کائنات ان معصوم بچوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں