6

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر 9 اور 10 میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ دیدہ دلیری سے جاری,کیوں نہ رک سکا؟

تعینات انسپکٹروں نے ملبہ مقامی سیاست دان کے سر تھوپ دیا، نوٹس، سیلنگ اور انہدام کے احکامات، ذمہ دار کون ؟

نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کا واضح مؤقف: قانون سے بالاتر کوئی نہیں، غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ مافیا کی سرپرستی ہرگز قبول نہیں

ڈی جی ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس،سی ای او راولپنڈی کنٹونمنٹ اور متعلقہ انتظامیہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی میں بےبس، ذرائع

ملک ابرار کا نام زیرِ بحث، مؤقف تاحال موصول نہ ہو سکا، جواب آتے ہی من و عن شائع کیا جائے گا

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر 9 اور 10 میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ ایک مرتبہ پھر شہری حلقوں، قانونی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم سوال بن چکا ہے۔دستیاب سرکاری ریکارڈ، قانونی دستاویزات اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق متعدد پلازوں، کمرشل عمارتوں اور دکانوں کو بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر نوٹسز جاری کیے گئے، متعدد مقامات پر سیلنگ کی کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ بعض کیسز میں انہدام (Demolition) کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔کنٹونمنٹ قوانین کے مطابق جب کسی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے کر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو مالک کو مقررہ مدت کے اندر خلاف ورزی دور کرنے یا تعمیراتی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اگر مقررہ مدت گزرنے کے باوجود خلاف ورزی برقرار رہے تو متعلقہ اتھارٹی قانونی کارروائی کرتے ہوئے تعمیر کو سیل کرنے اور ضرورت پڑنے پر انہدام کی کارروائی بھی عمل میں لا سکتی ہے۔ اس پورے قانونی عمل کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور قانون پر یکساں عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق وارڈ نمبر 9 میں متعدد دکانوں اور شٹرز کو قانونی نوٹس جاری کیے جانے کے بعد متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر نے موقع پر جا کر باقاعدہ سیل کیا۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی کی تصاویر، سرکاری ریکارڈ اور دیگر دستاویزات بھی موجود ہیں۔ تاہم حیران کن طور پر تقریباً سات روز بعد یہی شٹر دوبارہ کھول دیے گئے، جس کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب خلاف ورزی برقرار تھی تو سیل شدہ دکانیں کس قانونی اختیار کے تحت دوبارہ کھولی گئیں اور اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔مختلف ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وارڈ نمبر 9 اور 10 میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ، جس میں ڈی جی ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس، چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ افسران ان تعمیرات کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے میں بےبس دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر قانونی کارروائی کا آغاز تو کیا گیا، مگر اسے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا، جس سے شہریوں میں مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں،اس لیے متعلقہ حکام کا مؤقف بھی طلب کیا جا رہا ہے، جو موصول ہوتے ہی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔اسی تناظر میں مختلف ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض سیل شدہ دکانوں اور شٹرز کو دوبارہ کھلوانے میں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا گیا۔ بعض ذرائع اس ضمن میں موجودہ رکنِ قومی اسمبلی ملک ابرار کا نام بھی لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق بعد ازاں بلال گجر نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ مارکیٹ ایک بااثر مقامی سیاسی شخصیت کی پشت پناہی کے باعث دوبارہ کھولی گئی اور وہ اسے رکوانے سے قاصر ہیں۔ ان کے بقول متعلقہ افراد نے مارکیٹ کے لوگوں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ اگر کنٹونمنٹ بورڈ کا کوئی اہلکار کارروائی کے لیے آئے تو اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ اسی وجہ سے وہ مزید کارروائی نہیں کر سکے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ مارکیٹ آج بھی مبینہ طور پر غیر قانونی حیثیت کے ساتھ قائم ہے۔تاہم اخبار اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ اس حوالے سے ملک ابرار سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کا مؤقف بھی عوام کے سامنے لایا جا سکے، مگر اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہو سکا۔ ان کا مؤقف موصول ہوتے ہی اسے بغیر کسی ترمیم کے مکمل طور پر شائع کیا جائے گا۔شہریوں اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک عام شہری معمولی خلاف ورزی پر بھی فوری قانونی کارروائی کا سامنا کرتا ہے تو پھر بڑے پیمانے پر ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں میں قانون پر یکساں عملدرآمد کیوں نظر نہیں آتا؟ اگر نوٹسز، سیلنگ اور انہدام کے احکامات کے باوجود تعمیرات دوبارہ بحال ہو جائیں تو اس سے اداروں کی کارکردگی، نگرانی کے نظام اور قانون کی عملداری پر سنگین سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت ہمیشہ قانون کی بالادستی اور ریاستی اداروں کی عملداری پر زور دیتی رہی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ قبضہ مافیا، تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے دورِ حکومت میں پنجاب بھر میں تجاوزات، قبضہ مافیا اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری آپریشنز کو اپنی گورننس پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔اسی تناظر میں یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ اگر کسی مقام پر مسلم لیگ (ن) کے کسی منتخب نمائندے کا نام لیا جا رہا ہے تو اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر کسی شخصیت کا نام بے بنیاد طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو وہ حقیقت بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے، اور اگر کسی سطح پر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔یہ معاملہ صرف چند عمارتوں یا دکانوں تک محدود نہیں بلکہ قانون کی عملداری، ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وارڈ نمبر 9 اور 10 میں جاری کیے گئے تمام نوٹسز، سیلنگ آرڈرز، انہدام کے احکامات، دوبارہ کھولے جانے والی عمارتوں کی قانونی حیثیت، متعلقہ افسران کی ذمہ داری اور بعد ازاں ہونے والی تمام کارروائیوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔اس خصوصی رپورٹ کا مقصد کسی فرد یا ادارے کے خلاف فیصلہ صادر کرنا نہیں بلکہ عوامی مفاد کے ایک اہم معاملے پر دستیاب حقائق، سرکاری ریکارڈ، قانونی دستاویزات اور اٹھنے والے سوالات کو سامنے لانا ہے۔ شفاف تحقیقات، قانون کی یکساں عملداری اور تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف ہی اس معاملے کی حقیقت کو واضح کر سکتے ہیں۔
نوٹ: اس رپورٹ میں شامل بعض معلومات اور دعوے مختلف ذرائع اور دستیاب دستاویزات پر مبنی ہیں۔ اخبار نے متعلقہ حکام اور رکنِ قومی اسمبلی ملک ابرار کا مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہو سکا۔ مؤقف موصول ہوتے ہی اسے اسی اہمیت اور نمایاں انداز میں شائع کیا جائے گا تاکہ صحافتی دیانت داری، توازن اور عوام کے حقِ معلومات کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں