43

“سرحد پار کی بیٹی؛ نیہا بورا اور ہمارا سانجھا غم”

روزنِ عدل

*ایڈووکیٹ مبشر علے فاروق*
گولڈ میڈلسٹ
(ایم ایس سی ؛ ایل ایل ایم)



میری بہادر بیٹی نیہا بورا!
میں تمہیں جانتا نہیں۔ نہ کبھی تم سے ملاقات ہوئی، نہ تمہاری آواز قریب سے سنی، نہ تمہاری آنکھوں میں وہ یقین دیکھا جس کی گواہی اب تمہاری تصویریں دے رہی ہیں۔ مگر پھر بھی جانے کیوں دل کہتا ہے کہ تم میری طالبہ ہو، میری بیٹی ہو۔

شاید اس لیے کہ استاد کا رشتہ صرف کلاس روم کی چار دیواری میں سامنے بیٹھے سٹوڈینٹس اور وائٹ بورڈ اور لیپ ٹاپ میں موجود سلائیڈز تک محدود نہیں ہوتا۔ کبھی کوئی طالب علم سرحدوں کے اُس پار کھڑا ہو کر وہ سبق عملی زندگی میں لکھ دیتا ہے جو استاد برسوں کتابوں میں پڑھاتا رہتا ہے۔

میں لاہور اور ملتان کے درمیان بیٹھا قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم، ایک عوامی سا وکیل اور ایک پروگریسو استاد ہوں۔ قانون میرے لیے محض دفعات، شقوں اور عدالتی فیصلوں کا مجموعہ نہیں؛ قانون اس لمحے زندہ ہوتا ہے جب کوئی کمزور انسان اپنے حق کے لیے طاقتور کے سامنے دلیل کے ساتھہ کھڑا ہوتا ہے۔

اسی لیے جب میں نے تمہیں دہلی میں مسلسل 23 دن بھوک ہڑتال کرتے دیکھا، ہاتھ میں جمہوریۂ بھارت کا آئین تھا اور چہرے پر عجیب سا اطمینان، تو مجھے ایک لمحے کے لیے لگا جیسے سرحدیں مٹ گئی ہوں۔
ایک ندائے غیب سی محسوس ہوئی؛ “دیکھو، تم جس قانون کو کتابوں میں پڑھتے رہے، ایک بیٹی اسے اپنی بھوک سے لکھ رہی ہے۔”

راج دلاری بیٹا نیہا! تم نے شاید یہ ثابت کرنے کے لیے مرن برت نہیں کیا تھی کہ تم بہادر ہو۔ تم نے شاید صرف یہ یاد دلانے کے لیے خود کو بھوکا رکھا کہ ریاست سے سوال کرنا جرم نہیں، آئینی حق ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 میں مساوات، آرٹیکل 15 میں مذہب سمیت مخصوص بنیادوں پر امتیاز کی ممانعت، آرٹیکل 19(1)(a) میں اظہارِ رائے کی آزادی، آرٹیکل 19(1)(b) میں پُرامن اجتماع کا حق اور آرٹیکل 25 میں مذہبی آزادی کا تصور موجود ہے۔ یعنی قانون کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ تم اکثریت میں ہو یا اقلیت میں۔ سوال یہ ہے کہ تم شہری ہو یا نہیں؟ مطلب بہت سادہ ہے، ریاست شہری کو پہلے شہری سمجھتی ہے، اس کا مذہب بعد میں۔ اقلیت کے حقوق اکثریت کا احسان نہیں، آئینی ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ قانون کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ طاقتور اکثریت کو کتنا تحفظ دیتا ہے؛ اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ کمزور اقلیت کو طاقتور اکثریت کے سامنے کتنا محفوظ رکھتا ہے۔ اسی لیے تمہارا ہاتھ میں آئین لے کر کھڑا ہونا میرے لیے محض احتجاج کی ایک تصویر نہیں۔ یہ ریاست کے سامنے ایک قانونی سوال ہے۔ اگر آئین سب شہریوں کو برابر کہتا ہے تو پھر مذہب کسی شہری کے حق، عزت، آزادی یا تحفظ کا پیمانہ کیسے بن سکتا ہے؟
اور یہی سوال آج ہندوستان کے ہر شہری کا سوال ہے۔
پیاری بیٹی، آج تمہارے سامنے جو بھارت ہے، اسے سوچ کر دل بیٹھہ جاتا ہے۔ ایک مسلم راہنما کی آہ سنائی دیتی ہے “اب تو ایمان بچانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔” میں نے اس آہ میں ایک پورے گھرانے کی بے بسی سنی؛ وہ گھر جہاں ماں بچے کی ٹوپی جیب میں ڈال کر کہتی ہے کہ گلی کے نکڑ پر پہن لینا، باپ دکان کا شٹر گراتے ہوئے سوچتا ہے کہ صبح یہ سلامت ملے گا یا نہیں، اور بیٹی کالج جاتے ہوئے اپنا نام بدلنے کا سوچتی ہے۔ یہ کیسی مسلمانیت ہے کہ گھر پر بلڈوزر کا خوف، مسجد پر تالے کا خوف اور قبرستان پر قبضے کا خوف؟ اور اس خوف کو ایک پوری فیکٹری ہوا دے رہی ہے۔ اس کا پہلا پلانٹ گودی میڈیا ہے؛ شام سات سے گیارہ بجے تک ہر چینل پر ایک ہی مقدمہ، اور ملزم پہلے سے طے شدہ، مسلمان۔ کبھی لوْ جہاد، کبھی تھوک جہاد، کبھی UPSC جہاد؛ مہنگائی جہاد، بے روزگاری جہاد اور نفرت کے بیوپار پر کوئی پرائم ٹائم نہیں! دوسرا پلانٹ وہ کنگنا رناوت ایسی کئی آوازیں ہیں جو نفرت کو سیاست اور تفریح دونوں بنا چکی ہیں۔ جب ایک منتخب رکن پارلیمنٹ عبادت گاہوں پر بلڈوزر چلانے کی بات کرے اور ایوان خاموش رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ بلڈوزر صرف گھروں پر نہیں، آئین پر بھی چل رہا ہے۔ تیسرا پلانٹ وہ یوٹیوبیانہ عصبیت ہے؛ جہاں نفرت روزگار ہے، کمزور کو گھیرنا مردانگی اور مذہبی تحقیر وائرل مواد۔
کسی بھی آئینی ریاست کا اصل امتحان بھی یہی ہے۔ اکثریت کے طاقتور ہونے میں ریاست کی کامیابی نہیں، اقلیت کے محفوظ ہونے میں ریاست کی کامیابی ہے۔ کمزور کو انصاف مل جائے تو قانون زندہ ہے؛ کمزور کو خاموش کر دیا جائے تو کتاب میں لکھی ہوئی شقیں بھی صرف حروف رہ جاتی ہیں۔

حقوق آشنا بہادر بیٹی! تمہاری 23 دن کی بھوک نے ہمیں اپنے گھر کا آئینہ بھی دکھا دیا ہے۔ یہ ہمارا بھی المیہ ہے کہ ہم سرحد کے اُس پار ہونے والے ظلم پر جذباتی تقریریں تو بہت کرتے ہیں، مگر اپنے ہی معاشرے میں آئین، قانون، اقلیت، عورت اور کمزور کے حقوق کے لیے اتنی بے قراری پیدا نہ کر سکے جتنی ایک سرحد پار ایک حقوق آشنا بیٹی نے اپنے عمل سے پیدا کر دی۔ تم دہلی کی سڑک پر بھوکی کھڑی تھیں اور ہم یہاں اپنے آرام دہ کمروں میں بیٹھے تمہاری تصویر دیکھ کر کبھی داد دیتے، کبھی تبصرہ کرتے اور کبھی اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے رہے۔شاید ہماری سب سے بڑی ناکامی یہی ہے کہ ہم نے مزاحمت کو تماشہ اور اصول کو تقریر بنا دیا ہے۔

تم نے ہمیں بھی یاد دلایا کہ آئین صرف عدالت کی الماری میں رکھی ہوئی کتاب نہیں۔ آئین اس وقت زندہ ہوتا ہے جب ایک عام شہری اسے اپنے ہاتھ میں اٹھا کر ریاست سے کہتا ہے، “میں تمہاری رعایا نہیں، تمہارا شہری ہوں۔” اور یہی وہ مقام ہے جہاں تمہاری جدوجہد کسی ایک مذہب، ایک جماعت یا ایک سرحد کا مسئلہ نہیں رہتی۔ یہ انسان اور ریاست کے درمیان تعلق کا سوال بن جاتی ہے۔

فیض صاحب نے کہا تھا، “ہم دیکھیں گے”ـ اور حبیب جالب نے اعلان کیا تھا، “میں نہیں مانتا!” شاید ہر دور میں مزاحمت کی زبان بدلتی ہے، مگر اس کی روح ایک ہی رہتی ہے۔ کبھو قلم مزاحمت کرتا ہے، کبھو عدالت، کبھو سڑک، کبھو ایک نظم، اور کبھو ایک بھوک کی راہ پر گامزن بیٹی۔
تم نے بھوک کو اپنی زبان بنا لیا۔
اور شاید اسی لیے تمہاری خاموشی بھی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔
ادھر ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کی دنیا ہے؛ چند لمحوں کی شہرت، چند تیز جملے، چند اشتعال انگیز ویڈیوز اور پھر اگلا ہنگامہ ہائے ہو۔۔۔ نفرت بیچنے والوں کے پاس ہمیشہ مائیک موجود ہے، مگر انصاف کی بات کرنے والے اکثر اپنے ہی معاشرے میں تنہا رہ جاتے ہیں۔ کنگنا رناوت ایسی آوازیں ہوں یا نفرت کو بیوپار بنانے والے دوسرے یوٹیوبیانہ عصبیت زدہ کردار، مسئلہ کسی ایک شخص کا نہیں۔ مسئلہ اس ذہنیت کا ہے جو اختلاف کو دشمنی اور اقلیت کو مسئلہ سمجھنے لگتی ہے۔ ایسی فضا میں تمہارا کھڑا ہونا معمولی بات نہیں۔ مردانگی ڈرانے میں نہیں، حق کے لیے ڈٹ جانے میں ہے۔ “ہمتِ نسواں مددِ خدا”۔ اور ہمتِ نسواں کی اس نئی تعبیر کو تم نے اپنی بھوک سے لکھا ہے۔ مگر بیٹی! تمہاری جدوجہد کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تمہاری اپنی صفوں میں بھی سوال اٹھتے ہیں۔ وہ لوگ جو قیادت کا دعویٰ کرتے ہیں، جو کمیٹیوں، اجلاسوں اور قراردادوں میں قوم کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کے مقابلے میں کبھی کبھی ایک تنہا انسان زیادہ بلند دکھائی دیتا ہے۔ 51 مسلم قائدین ایک طرف، ایک نیہا دوسری طرف۔ اور تاریخ کبھو تعداد نہیں دیکھتی، کردار دیکھتی ہے۔اسی لیے تم اکیلی ہو کر بھی اکیلی نہیں ہو۔تمہارے پیچھے وہ تمام لوگ کھڑے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ مذہب انسان کی شناخت کا حصہ ہو سکتا ہے، مگر انسان کی عزت کا متبادل نہیں؛ اکثریت حکومت کر سکتی ہے، مگر آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتی؛ اور ریاست طاقت رکھ سکتی ہے، مگر شہری کے بنیادی حقوق چھیننے کا اختیار لامحدود نہیں رکھتی۔CAA اور NRC کے خلاف ہونے والی مزاحمت ہو، شاہین باغ کی خواتین ہوں، جامعہ کے طلبہ ہوں، علی گڑھ کے نوجوان ہوں، عمر خالد یا شرجیل امام جیسے ناموں کے گرد کھڑے ہونے والے قانونی و سیاسی سوالات ہوں، ان سب کے درمیان ایک بنیادی سوال بار بار سامنے آتا ہے؛ ریاست اپنے شہری سے کتنی آزادی لے سکتی ہے، اور شہری اپنے آئینی حق کے لیے کہاں تک کھڑا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف اکثریت کی خواہش سے نہیں دیا جا سکتا۔ قانون کا حسن یہی ہے کہ وہ طاقتور کی خواہش کو بھی ایک حد میں رکھتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تمہاری جدوجہد میرے لیے ذاتی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ میں نے قانون پڑھا ہے، عدالتیں دیکھی ہیں، مقدمات لڑے ہیں اور یہ جانا ہے کہ کاغذ پر لکھی ہوئی آزادی اور زندگی میں حاصل آزادی کے درمیان کبھی کبھی ایک پوری دنیا کا فاصلہ ہوتا ہے۔تم نے اس فاصلے کو اپنی بھوک سے کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہی تمہاری اصل کامیابی ہے۔
یہی ہمارا سانجھا غم بھی ہے۔

تم سرحد کے اُس پار آئین کے لیے بھوکی کھڑی ہو اور ہم اس پار اپنے اپنے معاشروں میں قانون، انصاف اور انسان کی حرمت کے سوال سے نظریں چرا رہے ہیں۔
سرحدیں نقشوں پر ہوتی ہیں، مگر درد کا کوئی ویزا نہیں ہوتا۔
پیاری بیٹی! ملتان کی اس دھرتی سے، جہاں اولیاء نے سرحدوں سے بلند ہو کر ہمیشہ محبت کا درس دیا، تمہارے نام سلام!
تم نے 23 دن بھوک برداشت نہیں کی؛ تم نے ہمیں اپنے، اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔
تم دہلی کی سڑک، جنتر منتر پر آئین ہاتھ میں لیے کھڑی تھیں، مگر سوال سرحد کے دونوں طرف تھا، کیا ہم واقعی اپنے آئین، اپنے قانون اور اپنے انسان ہونے کے دعوے پر قائم ہیں؟ شاید تمہاری سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ تم نے ایک احتجاج کو ایک سوال بنا دیا، ایک سوال کو ایک آئینی مقدمہ، اور اس مقدمے کو انسان کی حرمت کا مسئلہ۔ اور شاید ہمارا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ جس سبق کو ہم کتابوں میں پڑھاتے رہے، اسے ایک سرحد پار بیٹی نے 23 دن بھوکی رہ کر عملی زندگی میں لکھ دیا۔
تم نے بھوک کو دلیل بنایا، آئین کو آواز بنایا اور خوف کو شکست دی۔
اب تاریخ تم سے یہ نہیں پوچھے گی کہ تم کتنے دن بھوکی رہیں؛ تاریخ یہ پوچھے گی کہ جب تم بھوکی تھیں تو کس کس کا ضمیر بھوکا تھا؟ جب تم آئین اٹھائے کھڑی تھیں تو کتنے ہاتھ آئین کے ساتھ اٹھے؟ اور جب تم نے خوف کو للکارا تو کتنے لوگ اپنی محفوظ خاموشی سے باہر آئے؟ بیٹی! اگر تمہاری 23 دن کی بھوک کسی ایک ماں کو خوف سے آزاد کر دے، کسی ایک باپ کو اپنی بیٹی کا نام چھپانے سے روک دے، کسی ایک نوجوان کو اپنے آئینی حق کے لیے کھڑا ہونے کا حوصلہ دے دے، تو سمجھو تمہاری بھوک رائیگاں نہیں گئی۔اور اگر ایسا نہ بھی ہو، تب بھی تم ناکام نہیں ہوئیں۔کیونکہ تاریخ میں بعض آوازیں نتیجہ حاصل کرنے کے لیے نہیں، زمانے کا ضمیر محفوظ رکھنے کے لیے اٹھتی ہیں۔
تم ایسی ہی ایک آواز ہو۔
سرحد کے اُس پار میری بیٹی، تم سلامت رہو!
ہم سرحدوں میں بٹے ہوئے سہی، مگر ظلم کے خلاف ہمارا دکھ سانجھا ہے، شرفِ انسانی کی حرمت کا سوال سانجھا ہے، اور آئین کے احترام کی خواہش بھی سانجھی ہونی چاہیے۔
تمہاری بھوک ختم ہو، مگر تمہاری آواز کا بلند اور مضبوط آہنگ ختم نہ ہو۔
تمہاری تھکن اتر جائے، مگر تمہاری جرأت نہ اترے۔
اور تمہاری یہ 23 دن کی خاموش چیخ تاریخ کے صفحات پر اتنی دیر تک سنائی دیتی رہے کہ ایک دن کسی ریاست کو اپنے ہی آئین کے سامنے شرمندہ ہو کر کہنا پڑے، “ہم نے اپنے شہری کو پہچاننے میں دیر کر دی۔”

دعائے سلامتی و درازیٔ عمر!
تمہارا غائبانہ پرستار،
ایک پاکستانی استاد اور قانون دان،
یکےاز ملتان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں