22

ناسا کا اورائن خلائی جہاز چاند سے دور ریٹرو گریڈ مدار میں داخل ہونے کیلئے تیار

ناسا کا اورائن خلائی جہاز چاند سے دور ریٹرو گریڈ مدار میں داخل ہونے کیلئے تیار

امریکی خلائی ایجنسی ناسا خلاء میں تحقیق کے لیے جہاز روانہ کرتی رہتی ہیں۔ اس ضمن میں ناسا کاخلائی مشن آرٹیمس ون کااورائن خلائی جہاز اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب وہ چاند کے دور دراز ریٹرو گریڈ مدار میں داخل ہونے کی تیاری کررہا ہے۔ اس مدار میں یہ چاند کے گرد مگر اس کی مخالف سمت میں سفر کرے گا۔ ناسا کا خلائی جہاز تین روز پہلے چاند کے قریب پہنچ گیا تھا جہاں یہ چاند سے 80 میل تک کے فاصلے تک پہنچا۔ اس کے بعد اس نے ایک بڑے مدار کی جانب سفر شروع کیا تھا۔

اس خلائی جہاز میں کوئی انسان موجود نہیں ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مستقبل میں عام لوگوں کے چاند کا سفر ممکن ہو سکے گا۔ناسا نے 50 سال کے وقفے سے آرٹیمس ون مشن کے تحت اورائن خلائی جہاز کو چاند کے اردگرد سفر پر روانہ کیا ہے، تاکہ انسان کے دوبارہ چاند کی سطح پر اترنے کے مشن کے علاوہ اس سے بھی آگے تحقیقات کی جا سکے۔یہ ایک آزمائشی پرواز ہے اور اس پر کوئی خلاباز سوار نہیں۔ اس پر صرف انسانی پتلےسفر کر رہے ہیں جو ہزاروں سینسرز سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ 

ناسا کی خلابازکے مطابق ان سینسرز سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہاں کا ماحول کیسا ہے اور وہ انسانوں کے لیے کیسا ہو گا۔ تابکاری سینسرز، موشن سینسرز، ایکسلرومیٹر بہت اہم چیزیں ہیں اور یہ اس لیے اہم ہے ،کیوں کہ اگر یہ مشن صحیح طرح سے آگے بڑھتا ہے تو اگلی بار خلا باز بھی اس میں شامل ہوں گے جو پہلے چاند کے گرد مدار میں جائیں گے اور پھر آرٹیمس تھری میں پہلی خاتون اور پہلے شخص کو چاند کی سطح پر اتارا جائے گا۔ ناسا نے اس مرتبہ اس مشن کے پروگرام کا نام’ ’آرٹیمِس‘‘ کے نام پر رکھا ہے۔

ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز ڈیولپمنٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری کا کہنا ہے کہ،’ ’ہم پہلی انسانی گاڑی کو اس سے آگے لے جا رہے ہیں اور ہم اورائن کیپسول کے ساتھ چاند سے 40,000 میل کا فاصلہ طے کریں گے‘‘۔جب اورائن یہ کام مکمل کر لے گا تو یہ زمین سے تقریباً 280,000 میل کے فاصلے پر ہوگا جو اس سے قبل 1970 میں اپالو 13 کے عملے کے ریکارڈ کو توڑے گا۔

1960 کی دہائی میں اپالو بنیادی طور پر امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کی طاقت کی دوڑ کا حصہ تھا۔ آرٹیمس ایک بین الاقوامی کوشش ہے، جس کی قیادت ناسا کر رہی ہے، جس میں کینیڈین اسپیس ایجنسی، جاپان ایرو سپیس ایکسپلوریشن ایجنسی اور یورپین اسپیس ایجنسی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں