فالتو پلاسٹک کو قیمتی نینو ذرّات میں بدلنے والی ٹیکنالوجی تیار

فالتو پلاسٹک کو قیمتی نینو ذرّات میں بدلنے والی ٹیکنالوجی تیار

کرہ ٔ ارض پرپلاسٹک کے کچر ے میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے ایک ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے ،جس کی بدولت پلاسٹک کو قیمتی صنعتی نینوذرّات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اسے ماہرین نے فلیش جول ٹیکنالوجی کا نام دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی رائس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بنائی ہے جو ڈاکٹر کے وِن وائس کی اختراع ہے ،پہلے اس میں فلیش جول ہیٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس میں پلاسٹک کوڑے کو جلاکر قیمتی کاربن نینوٹیوبس اور ہائبرڈ نینو میٹریئلز میں بدلا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائبرڈ کاربن نینومٹیریئل گرافین اور بازار میں دستیاب کاربن نینوٹیوبس کو کارکردگی میں پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ ہرطرح کے ملے جلے پلاسٹک کچرے سے اعلیٰ معیار کی ہائبرڈ نینوٹیوبس بنائی جاسکتی ہیں۔گرافین ہوں، کاربن نینوٹیوبس ہوں یا کاربن پرمشمتل نینومٹیریئلز ہوں ، یہ سب بہت مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں صنعتوں میں بھی بے شمار کاموں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ 

یہ بہترین کنڈکٹرہوتے ہیں، برقی مقناطیسی خواص رکھتے ہیں اور برقیات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی کوٹنگ کرنے، سینسر بنانے اور توانائی ذخیرہ کرنے کے کام بھی آتے ہیں۔اس عمل میں پلاسٹک کو 5120 درجے فیرن ہائٹ پر جلایا جاتا ہے، پھر ان میں مختلف اقسام کی کاربن اور فولاد ملایا جاتا ہے، جس سے پلاسٹک کے خواص بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح پلاسٹک کارخانوں اور ہائی ٹیک انڈسٹری میں استعمال ہونے والے مادّوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں