چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی

چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی

ماہرین فلکیات نے چاند سے حاصل کیے گئے چند نمونوں کے تجزئیے سے پتہ لگایا ہے کہ قمری سطح پر شیشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھیلے ہوئے ہیں، جس میں اربوں ٹن پانی موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند پر نہ صرف پانی بلکہ ہائیڈروجن اور آکسجین کا بھی انتہائی قابل رسائی ذریعہ موجود ہے۔ 

جسے مستقبل کے قمری مشن کے خلاباز اخذ اور استعمال کرسکتے ہیں۔ برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں سیاروں کی سائنس اور تحقیقات کے پروفیسر مہیش آنند کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم دریافت ہے۔ اس تلاش کے ساتھ، چاند پر پائیدار طریقے سے تحقیقات کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دسمبر 2020 میں چین کے chang’e 5 مشن کے ذریعے قمری سطح سے زمین پر لائے گئے باریک شیشوں کا تجزیہ کیا تھا، جس سے پتہ چلا کہ یہ شیشے اس وقت وجود میں آئے جب شہابی پتھر چاند سے ٹکرائے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں گرم اور پگھلے ہوئے مادّے ہوا میں بکھر کر سطح پر گرے اور پھر ٹھنڈے ہوکرچاند کی مٹی کا حصہ بن گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں