جانوروں پر زہر کے تجربات

جانوروں پر زہر کے تجربات

سانپ کے زہر میں پروٹین ، خامرے اور دیگر بایو ایکٹیو سالمے ہوتے ہیں جو کہ سانپ اپنے شکار کے جسم میں کاٹتے ہوئے داخل کردیتا ہے۔ یہ اجزاء دوسری طرف سائنسی تحقیق کے لیے ایک خاص نمونے کے طور پر مختلف بیماریوں اور نئی دریافتوں کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ اسی طرح محققین نے جانوروں پر مختلف مرکبات کے زہریلا ہونے کا مطالبہ کرنے کے لیے بھی سانپ کا زہر استعمال کیا ہے۔ اس طرح کے مطالعے میں جانوروں کو ایک مرکب کی مختلف خوراکوں کو سامنے لانا اور وقت کے ساتھ جانوروں پر پڑنے والے اثرات کا مشاہدہ کرنا شامل ہے۔ 

ان مطالعات کا مقصد مرکب کے زہریلے ہونے کا تعین کرنا اور ممکنہ منفی اثرات کی نشاندہی کرنا ہے جو انسانوں یا دوسرے جانوروں کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ زہریلے مادّوں کے مطالعات میں جانوروں کو ایک مرکب یا زہر کی مختلف خوراک دی جاتی ہیں یا ان خوراکوں کو انجیکشن کے ذریعے جانور کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے ،پھر وقت کے ساتھ ظاہر ہونے والے اثرات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا جانور ماڈل لیبارٹری چوہا ہے ۔ چوہے کیونکہ ممالیہ جانور ہیں اور انسانوں کے ساتھ بہت سی جینیاتی اور فعلیاتی مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کی افزائش نسل اور دیکھ بھال بڑے جانوروں کے مقابلے میں تجربہ گاہ کے اندر نسبتاً آسان ہوتی ہیں۔سانپ کے زہر کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے بھی چوہوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور ممکنہ نقصان دہ اثرات کا مشاہدہ عمل میں آتا ہے۔ 

اسی طرح سے کیڑے مار دوا یادیگر مرکبات کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ کیڑے مار دو ا جب چوہوں کو دی گئی تو یہ مشاہدہ کیا گیا کہ چوہوں کے خون میں بعض خامروں کی سطح میں تبدیلی آئی ،جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ کیڑے مار دوا جگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ۔ چوہوں کے علاوہ خرگوش اوربندر کو بھی ان مطالعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ سانپ کے زہر کا مطالعہ ان جانداروں پر تجربہ گا ہ میں کیا جاتا رہا ہے ۔ اسی طرح مختلف سانپوں کے زہر کے اثرات کو جانچا گیا ہے اور سب سے زیادہ نقصان دہ اثر کونوٹ کیا جاتا ہے ۔ اس طرح سے سانپوں کے زہر کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے یا تو سانپ کا زہر اعصابی نظام یا پھر خو ن کے نظام اور قلبی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ 

سانپ کے زہر میں کیونکہ بہت سارے پروٹین اور بائیوایکٹو مالیکیولز ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کو ایک معیار کے طور پر لے کر دوسرے مرکبات کے زہریلے اثرات کو بھی جانچا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادویات اور مرکبات کے انسانی جسم میں مخصوص پروٹین کےسالموں کو ہدف بنا کر ان کے ساتھ ہونے والے تعامل کو بھی سمجھا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ اثرات لیبارٹری جانوروں پر ظاہر ہوتے ہیں اور پھر ان کے خون اور دیگر اعضاء کا مشاہدہ کرکے نتیجہ اخذ کرلیا جاتا ہے چوہو اور خرگوش وغیرہ کا استعمال اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ وہ انسانوں سے جسمانی اور حیاتیاتی مماثلت بھی رکھتے ہیں۔ سانپ کے کاٹے کے لیے موثر علاج تیار کرنے میں اس طرح کے تجربات انتہائی اہم ہوتے ہیں، کیوں کہ جانوروں پر تجربہ کر نے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سانپ کا زہر جسم کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ 

جانوروں کے ماڈل کے ذریعے محققین کو ایک کنٹرول شدہ ترتیب میں سانپ کے زہر کے اثرات کا مطالعہ کرنے کی چھوٹ مل جاتی ہے جہاں ہر قسم کی تبدیلی کو مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ جانوروں کے ماڈل انسانوں میں استعمال ہونے سے پہلے ممکنہ تریاق یا علاج کو جانچنے میں بھی اہم ثابت ہوتے ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ تحقیق میں جانوروں کا استعمال ٹھیک نہیں ہے اور اس کے بجائے متبادل طریقے جیسا کہ ٹیسٹ ٹیوب طریقے یا کمپیوٹ سمولیشن وغیرہ کو استعمال کیا جائے۔ 

دوسری طرف جانوروں پر کیے جانے والے تجربات انتہائی مفید معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جانوروں کی تجرباتی جانچ ایک پیچیدہ مسئلہ ہوسکتا ہے، کیونکہ جانوروں کو تحقیق میں وسیع مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے او ران کے استعمال سے متعلق بنائے گئے اصول ہر تجربہ کے لیے مختلف ہوسکتے ہیں۔

بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ تجربات کے دوران استعمال ہونے والے لیبارٹری جانوروں کو کم سے کم تکلیف دیتے ہوئے تحقیقی کام مکمل کیا جائے اور ہر طرح کی جانچ کے لیے بین الاقوامی سطح پر بنائے گئے اصولوں کو اپناتے ہوئے کام مکمل کیا جائے۔ اگرچہ جانوروں کی جانچ اب بھی تحقیق کے بہت سے شعبوں میں استعمال ہوتی ہے لیکن ایسے متبادل طریقے تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں جو جانوروں کے استعمال کو کم یا ختم کردیں۔ یہ طریقے کم لاگت اور زیادہ سائنسی طور پر درست ہوسکتے ہیں ۔ ’’ڈرو سو فلامیلانوگا سٹر‘‘، جسے عام طور پر پھل مکھی یا فروٹ فلائی کے نام سے جانا جاتا ہے، مکھی کی ایک چھوٹی نسل ہے جو کہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے سائنسی تحقیق میں ایک مڈل جانور کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

ڈرو سو فلا مختلف وجوہات کی بناء پر ایک اہم نمونہ جاندار ہے، کیوں کہ اس کو بآسانی تجربہ گاہ میں انتہائی کم لاگت میں نشوونما دی جاسکتی ہے۔اس کا انڈے سے نکل کر مکھی میں تبدیل ہونا صرف دس بارہ دن لیتا ہے اور اس کی جینیاتی بناوٹ بڑی سادہ ہے۔ جو چیز محققین کو زیادہ متوجہ کرتی ہے وہ کم وقت میں مکھیوں کی متعدد نسلوں کا مطالعہ کرنے کی صلاحیت ہے جو کہ اسی جاندار میں موجود ہے۔ اس طرح ماحولیاتی عوامل جیسے درجۂ حرارت، غذا اور دیگر چیزوں کے اثرات کا مطالعہ کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ 

اس مکھی کو بہت سارے حیاتیاتی عملیات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ڈرو سو فلا پر زہر کا تجربہ کرنے والے مطالعے کی ایک مثال میں ڈرو سوفلا لاروا کو بچھو کے زہر کی مختلف خوراک دی گئی تو لاروا حرکت کرنے کی صلاحیت سے متاثر ہوگیا اور یہ دیکھا گیا کہ لاروا کے عام رینگنے والے رویے میں خلل پیدا ہوا ہے اور لاروا فالج زدہ ہوگئے ہیں۔ ان مکھیوں کو عام طور پر ایک چھوٹے گلاس کی ٹیوب میں چینی، خمیر اور مکئی سے بنے ایک پیسٹ پر بآسانی نشوونما کے لیے رکھا جاسکتا ہے جہاں یہ انڈے بھی دیتی ہیں اور وہ انڈے لاروا میں تبدیل ہونے کے بعد لاروا سے مکھی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ 

عام طور سے تجرباتی مرکب یا زہر کو اس پیسٹ میں ملاکر دیا جاسکتاہے۔ ان چھوٹی شیشوں میں مکھیوں کی بڑی آبادی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ ایک اور مطالعے میں مکڑی کے زہر کے مطالعے کے لیے بھی ڈرو سو فلاکو استعمال کیا گیا ہے ۔ محققین نے یہ مشاہدہ کیا کہ مکڑی کے زہر کی وجہ سے مکھیوں میں تنائو کے رد عمل اور مدافعتی افعال میں شامل جینیاتی مواد میں تبدیلیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ ان مثالوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زہر کے اثرات کا مشاہدہ کر نے کے لیے ان مکھیوں کو استعمال کیاجاسکتا ہے۔ سانپ کے زہر کو جانچ کے لیے اگر ہم ڈرو سو فلا کو استعمال کرتے ہیں تو اسی کے کئی فائدے ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈرو سو فلا کی جینیاتی بناوٹ کا مکمل علم موجود ہے۔

لہٰذا اس میں جوڑ توڑ کر نا آسان ہے، اس لیے اگر سانپ کے زہر کے اثرات کسی مخصوص جینیاتی مواد پر یا کسی حیاتیاتی فعل کو مشاہدہ کرنے کے لیے ان مکھیوں پر تجربہ کیا جائے تو دوسرے جانورں کے مقابلے میں انتہائی آسان ، سستا اور کئی لحاظ سے بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کوئی بھی تجربہ سیکڑوں چوہا پر کرنا بہت مشکل ہے۔ جب کہ ڈرو سو فلا مکھی ایک بہت بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی شیشوں میں نشونما پاسکتی ہیں اور اگر ایک بڑی تعداد میں یعنی سیکڑوں کی تعداد میں کوئی تجربہ کرنا ہو تو یہ ممکن ہوتا ہے، پھر یہ بھی ہے کہ تجربہ گاہ میں یہ سیکڑوں مکھیاں ایک چھوٹی سی جگہ پر ہی سما سکتی ہیں اور ان کو بآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کی زندگی یا عمر بھی تھوڑی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ زہر کے اثرات کا مشاہدہ کرنا بھی مشکل نہیں رہتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بنیادی حیاتیاتی عمل جن کا ڈروسوفلا میں مطالعہ کیا جاتا ہے وہ انسانوں سمیت دیگر جانداروں میں ایک جیسے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈرو سو فلا سے حاصل کردہ تجرباتی نتائج انسانوں اور جانداروں پر لاگو ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا اس مکھی کو سانپ کے زہر کے ٹیسٹ کے لیے جانوروں کے ماڈل کے طور پر استعمال کرنا زہریلے اثرات کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ اس طرح یہ چھوٹی مکھی متبادل تجرباتی جاندار کے طور پر کام آسکتی ہے۔ ابھی کمپیوٹر سیمولیشن یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے زہر یا مختلف مرکبات کے اثرات کو جانچنا کافی آگے کی بات ہے۔ 

اسی کے لیے بہت سارا ڈیٹا یا مواد پہلے سے موجود ہونا ضروری ہوتا ہے اور پھر ظاہر ہے کہ وہ مواد یا ڈیٹا بھی جانوروں پر تجربات کر کے لیے لیا گیا ہوتا ہے ۔ کوئی بھی کمپیوٹر سسٹم اس تمام مواد کو لے کر ایک سافٹ وئیر کے ذریعے سے ایک ڈیٹا بیس بنا کر ایک ورچو ئل نتیجہ دے سکتا ہے۔ بعض اوقات اس طرح کے کمپیوٹر کے نتیجے کو بھی لیبارٹری میں تجربے کے ذریعے پرکھنا پڑ جاتا ہے۔ رہ گئی بات مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر سے نتیجہ حاصل کرنے کی تو یہ میدان ابھی خود تجرباتی مراحل سے گزررہا ہے اور کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ 

فی الحال سانپ کا زہر ہویا کوئی اور مرکب، اگر ہمیں اس کے اثرات سے متعلق آگاہی چاہیے تو کوئی نامیاتی جسم چاہیے جو کہ جانوروں جیسا کہ چوہے وغیرہ کی صورت میں موجود ہے دوسری طرف جگہ کی کمی، کم قیمت اور بڑے پیمانے پر کسی جاندار پر تجربہ کرنا ہو تو اس صورت میں ڈرو سوفلا یا پھل مکھی موجود ہے جو کہ دنیا بھر میں مختلف اداروں میں حیاتیاتی عوامل کے مطالعے کے لیے سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے استعمال ہورہی ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس چھوٹی سی مکھی کو تقریباً ہر طرح کے لیبارٹری تجربے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 

ڈاؤ کالج آف بائیو ٹیکنالوجی میں فلائے لیب کے نام سے ایک تجربہ گاہ موجود ہے جو کہ ڈرو سوفلا کے اوپر کام کررہی ہے۔ سانپ کے زہر کو لے کر بھی ان مکھیوں کے ساتھ کام کیا جارہا ہے اور اس طرح کے پروجیکٹ میں پروٹیومکس سینٹر، جامعہ کراچی بھی فلائے لیب کے ساتھ اشتراک میں کام کررہا ہے ۔ آنے والے وقت میں یہ ممکن ہے کہ کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت لیبارٹری جانوروں کا متبادل پیش کردے۔ اس وقت تک پھل مکھی جیسے چھوٹے جاندار ایک بہتر متبادل کے طور پر تجربات کے لیے انتہائی موضوع ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں