اسرائیلی بمباری، عرب ٹی وی کے رپورٹر زخمی، اہلیہ اور بچے گذشتہ ماہ شہید ہوئے تھے

وائل الدحدوح کے ہاتھ اور کمر میں زخم آئے ہیں: فوٹو فائل
وائل الدحدوح کے ہاتھ اور کمر میں زخم آئے ہیں: فوٹو فائل

الجزیرہ ٹی وی کے سینئر رپورٹر وائل الدحدوح اسرائیلی فوج کی ڈرون بمباری میں زخمی ہوگئے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈرون نے خان یونس میں حیفا اسکول کی تباہی کی کوریج کرنے والے میڈیا نمائندوں کے قریب بمباری کی، وائل الدحدوح کے ہاتھ اور کمر میں زخم آئے ہیں۔

وائل الدحدوح کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی 25 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں۔

صحافی وائل الدوحدوح کی بیوی اور بیٹی سمیت ان کا بیٹا بھی گھر پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہوا تھا۔

وائل الدوحدوح کا بیٹا ہائی اسکول کے فائنل ایئر میں پڑھتا تھا جبکہ ان کی بیٹی 7 سال کی تھی، صحافی نے اپنے خاندان کو حفاظت کیلئے النصرت کیمپ منتقل کیا تھا۔

خان یونس شہر کے وسطی اورشمالی حصوں میں اسرائیلی کی بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری میں 4 بچوں سمیت 10 افراد شہید ہوگئے۔

اقوام متحدہ کے اسکول پر اسرائیلی بمباری میں زخمی فلسطینی خان یونس کے اسپتال منتقل کردیے گئے ہیں، اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 18 ہزار 700 سے بڑھ گئی۔

امریکی صدر اور جیک سلیوان نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم سے غزہ میں آپریشن محدود کرنے پر بات کی، امریکا سال کے آخر تک اسرائیلی آپریشن میں تبدیلی کیلئے زور دے رہا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل شہریوں کی جانیں بچانے پر توجہ مرکوز رکھے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ سے مغوی کی لاش برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں سے جھڑپوں کے دوران ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا، ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی مجموعی تعداد 116 ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں