28

محکمہ واسا مری میں 23 کروڑ 52 لاکھ کا میگا کرپشن اسکینڈل، باریک واردات سے فیک کمپنیوں کو ٹھیکے ایوارڈ

سیاحوں نے جون کی گرمی میں مری کو آباد، واسا نے جون کرپشن سیزن سے مری کو خبروں کی زینت بنایا

ڈائریکٹر واٹر سپلائی اور ڈپٹی ڈائریکٹر سینی ٹیشن اینڈ ڈرینج کروڑوں روپے جعلی فرموں کے ذریعے خرد برد کرتے اینٹی کرپشن کے ریڈار پر آ گئے


مئی 2026 میں بناء ماں باپ کے پیدا کی گئی، بغیر لائسنس والی “Ch. Intisar Ahmad” لا وارث فرم 07 کروڑ 47 لاکھ کے ٹھیکوں کی وارث بن گئی


متعلقہ سرکاری اداروں کی رجسٹریشن سے پاک   “Raja & Co.” فرم بھی 03 کروڑ 73 لاکھ کا ٹھیکہ لے کر تمام نا پاک ارادوں کو عیاں کر گئی


پی ای سی میں داخلہ لئے بغیر “Kingsman Engineering” فرم ڈائریکٹر کے آفس سے 87 لاکھ کے ٹھیکوں کے لئے دھرلے سے پاس


ڈپٹی ڈائریکٹر کی ٹیکنیکل لیبارٹری سے برآمد شدہ “Ayaz Builders & Co” خود ساختہ فرم  03 کروڑ 73 لاکھ کا ٹھیکہ لیتے ہوئے ایکسپوز


یتیم فرم (PEC, FBR سے محروم) “Muhammad Zamir Abbasi” کو 30 لاکھ کے ٹھیکے کی خاطرڈائریکٹر نے وقت ادائیگی تک کود لے لیا


لائسنس کی پہنچ سے کوسوں دور “M. Naseem Abbasi & S. Brother” فرم بھی 84 لاکھ کے ٹھیکے کے لئے ڈائریکٹر کے دل کے پاس آگئی


ٹینڈر اتھارٹی نے باریک واردات کے ذریعے خود ساختہ فرمیں بنا کرموٹی رقم کے ٹھیکے بے نامی ٹھیکیداروں کی جھولی میں ڈال کر غالب گمان حصہ پتی منسوب کیا ۔!!


قانونی طور پر PEC سے رجسٹرڈ حروف میں ایک ڈاٹ سمیت ایک حرف کا بھی ردوبدل ہرگز نہیں ہوسکتا ، ردوبدل سے 100% جعلی ، خود ساختہ فرم ثابت ہوتی ہے

لاہور (عمر حیات چوہدری) محکمہ واسا مری پنجاب بھر میں سے غیر قانونی پریکٹس میں سرِ فہرست آ گیا ٹیکنیکل باریک ترین واردات کے ذریعے قومی خزانے سے لوٹ گھسوٹ کرنے والے کرپٹ افسران و ٹھیکیداران ایکسپوز ہو گئے جون سیزن کا خمار سر چڑھ گیا فیک کمپنیاں، من موجی کرپشن وغیرہ کا انکشاف قوم اور حکمرانوں کے سامنے کھل کر عیاں ہو گیا انویسٹی گیشن سیل سے اور تفصیلات کے مطابق واسا مری کے ڈائریکٹر واٹر سپلائی (ٹینڈر اتھارٹی)، اور ڈپٹی ڈائریکٹر سینی ٹیشن اینڈ سیوریج (ٹینڈر اتھارٹی) نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے PEC سے بغیر لائسنس شدہ (اوریجنل فرموں کے حروف میں مبینہ ردوبدل کے ساتھ) فیک ، خود ساختہ فرمیں بنا کر ان کے ناموں پر ٹھیکے ایوارڈ کئے پھر سیم ان فیک فرموں کے درج حروف کے عین مطابق نان رجسٹرڈ (FBR,PRA, PEC ) متعلقہ سرکاری اداروں سے بغیر ریکارڈ یافتہ ان فیک فرموں کے ناموں پربنک اکائونٹس بنوا کر ان میں ادائیگیاں کیں، مذکورہ آفیسرز نے دانستہ PEC کی اوریجنل فرموں کے ناموں کو کاپی کر کے حروف میں مبینہ ردوبدل کر کے فیک خود ساختہ فرموں کے ناموں پر ٹھیکے ایوارڈ کر کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا اور پھر ان سیم حروف کے فیک (نان رجسٹرڈ ، غیر قانونی) بنک اکائونٹس بھی بنوا کر یا پھر پشت پناہی کر کے ادائیگیاں کیں حالانکہ قانونی طور پر PEC سے رجسٹرڈ حروف میں ایک ڈاٹ سمیت ایک حرف کا بھی ردوبدل ہرگز نہیں ہوسکتا ، حروف میں ردوبدل سے 100% جعلی ، خود ساختہ فرم ثابت ہوتی ہے احتسابی اداروں سے اس کا نوٹس لینے اور اس کی ریکوری کی اپیل کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں