6

ازدواجی آئیڈیلزم اک دھوکہ

​گرد و پیش پر نظر دوڑائیے، آپ کو اکثریت اپنی قسمت پر شاکی نظر آئے گی۔ ہر بندہ اک آئیڈیل طرزِ زندگی کے چکر میں موجود یا حاصل کے لطف کو بھی گنوائے ہوئے ہے۔ آج ہم باقی باتوں کو چھوڑ کر شادی شدہ جوڑوں پر بات کرتے ہیں۔ شادی شُدہ جوڑوں میں زیادہ تر اپنی ”بے جوڑ“ شادی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ تفننِ طبع کے لیے ہی سہی لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ جوڑے اکثر الٹ ہی ہوتے ہیں۔ مثلاًََ ہمارے دستانوں اور جوتوں وغیرہ کے جوڑے چاہے جتنے پیارے، مکمل یا آئیڈیل ہوں وہ کب ایک جیسے ہوتے ہیں؟
​ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ کائنات میں ایک چیز کی کمی دوسری چیز پوری کرتی ہے۔ جُڑ کر ایک دوسرے کو مکمل کرنے کو ہی آئیڈیل جوڑ یا جوڑا کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے غلط فہمی پالنے کے بجائے حقائق کو قبول کرنا سیکھیں۔
​اللہ تعالیٰ نے ازدواجی رشتے کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا ہے:

ترجمہ:وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ (البقرہ 187)

لباس کا کام صرف جسم کو ڈھانپنا ہی نہیں بلکہ عیبوں کو چھپانا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جب ہم نکاح کے وقت “قبول ہے قبول ہے” کہتے ہیں تو اس کا مطلب اک دوسرے کو تمام کمی بیشی کے ساتھ قبول کرنے کا عہد ہوتا ہے۔​حضورِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ۔ اگر سے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے کے تو دوسری پسند ہوگی۔
(صحیح مسلم: 1469/61)
.
اسی درس کی روشنی میں، ایک دوسرے سے غلطیاں نکالنے کی بجائے مل کر انہیں سدھارنے کا مسلسل عمل شادی شدہ زندگی کے آئیڈیلزم کو پانے کی کنجی ہے۔ اسی سے سکھ بھی ملتا ہے اور اسی سے آنے والی نسلیں بھی سنورتی ہیں۔
​ایک دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ:

“کامل انسان وہ نہیں جو دوسروں کے نقائص گنواتا پھرے، بلکہ وہ ہے جو اپنی اصلاح میں مصروف ہو جائے۔”
درحقیقت ازدواجی زندگی بھی اسی کا نام ہے۔ جب ہم انا کو قربان کر کے ایک دوسرے کو مکمل قبول کر لیتے ہیں، تو تبھی سکون کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ​اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ دو انسانوں کا ملاپ دراصل دو مختلف کائناتوں کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ ہم اکثر یہ توقع پال لیتے ہیں کہ ہمارا شریکِ حیات ہماری مرضی کا عکس بن جائے۔ یہ توقع ہی اصل میں تمام مسائل کی جڑ ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھ لیتے کہ شریکِ حیات کو “بدلنا” نہیں، بلکہ اس کے ساتھ “نبھانا” ہی کمال ہے، تب تک ہم سکون کو ترسیں گے۔ جوڑے کا مقصد ایک دوسرے کی خامیوں کو ڈھانپ کر اس کی خوبیوں کو نکھارنا ہوتا ہے، نہ کہ اسے اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش میں اس کی شخصیت کو مسخ کر دینا۔
​یاد رکھیے کہ انوکھے لاڈلے کی طرح کھیلنے کے لیے چاند کا خواب سوائے سراب کے کچھ نہیں۔ ایسے سرابوں کے پیچھے بھاگنا خود کو حقیقی منزل سے دور کر دینے کے مترادف ہے۔ اصل زندگی رومانٹک فلموں، ڈراموں، ناولوں اور قصوں سے مُختلف بلکہ اکثر اوقات الٹ ہوتی ھے. بقول شاعر:

​وہ بھی دل ہے کہ پتھر میں خدا ڈھونڈھتا ہے
یہ بھی کافر ہے کہ پتھر ہی جدا ڈھونڈھتا ہے

​بات کو سمیٹتا ہوں کہ اک دوسرے میں آئیڈیل ڈھونڈنے کے بجائے ایک دوسرے کو قبول کرنا سیکھیے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم اک دوسرے کے زندگیوں میں سکون لاسکتے ہیں۔ ندا فاضلی کا اک خوبصورت شعر ہے کہ:
​کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
​یاد رکھیے کہ پوری ذات صرف اللہ تعالی کی ہے۔ دنیا کی ہر چیز میں کمی بیشی رکھی گئی ہے۔ ازدواجی زندگی کی مکمل رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے جوڑے کو پسندیدہ ترین بنانے کے لیے جستجو اور محنت کیجیے۔ ایک دوسرے کو خوش دلی سے قبول کیجیے اور مقبول ہو جائیے۔ اک دوسرے کا ادھورا پن دور کرنے کی کوشش کرنے والا جوڑا ہی پورا جوڑا کہلایا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں