10

’اب تک چھپن‘ پولیس مقابلے

(جہانزیب خان کاکڑ)

نو برس کی ہانیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا سے پاکستان آئی تھی، اُس کے والدین کا ارادہ تھا کہ بچوں کو اُن کے دادا کے پاس چھوڑیں گے اور خود وہ حج کرنے چلے جائیں گے۔ حج تو اُن کا ہو گیا مگر جب وہ پاکستان واپس آئے تو اُن کے ساتھ ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جس کے اثرات سے شاید وہ تمام عمر باہر نہ نکل سکیں۔ ہانیہ کے والد عدیل احمد کو اُن کے سسرال نے دعوت پر اپنے گھر چکوال بلایا، انہوں نے گاڑی کرائے پر لی اور بیوی بچوں کے ساتھ چکوال پہنچ گئے۔ سسرال والوں کے گھر کے قریب گاڑی پارک کی تو اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے اور اُن سے پستول کے زور پر نقدی اور زیورات کا مطالبہ کیا۔ قریب ہی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے تھانے کی دیوار تھی۔ نہ جانے تھانے والوں کو کیسے پتا چلا کہ باہر ڈکیتی ہو رہی ہے۔ آناً فاناً سی سی ڈی کے اہلکاروں نے ڈاکوؤں پر فائرنگ شروع کر دی، انہوں نے بھی جوابی فائرنگ کی، گاڑی میں عدیل احمد کا بیٹا اور بیٹی ہانیہ بھی تھیں، اُن معصوموں کو اس ’ایس او پی‘ کا علم نہیں تھا کہ جب پولیس مقابلہ ہو رہا ہو تو سامنے سے ہٹ جاتے ہیں۔ بیٹا فائرنگ سے زخمی ہو گیا اور ہانیہ پولیس کے ایس او پیز سے لاعلمی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ گولیوں نے اُس بچی کے چیتھڑے اڑا دیے۔

یہ واقعہ میں نے جس سادگی سے لکھا ہے، اُس سادگی سے یہ پیش نہیں آیا۔ آپ میں سے جنہوں نے یہ اندازہ لگانا ہو کہ یہ واقعہ کس قدر بھیانک تھا وہ اُس گاڑی کی تصویر دیکھ لیں جو فائرنگ کے اِس ’تبادلے‘ کے نتیجے میں چھلنی ہو گئی، آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ بین الاقوامی میڈیا میں ہاہاکار مچی ہے، الجزیرہ سے لے کر گارڈین تک اور آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے لے کر بی بی سی تک، ہر میڈیا ہاؤس نے سُرخیاں جمائی ہیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے پاکستان سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اب تک دونوں ڈاکو ’پولیس مقابلے‘ میں ہلاک ہو چکے ہیں، ہانیہ کے قتل کے جرم میں سی سی ڈی کے پولیس اہلکار کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور پولیس والوں کا سرکاری بیان یہ ہے کہ یہ ایک انفرادی فعل تھا۔ عذر گناہ بدتر از گناہ۔
اپنے کسی کالم کا حوالہ دینا خود نمائی ہی سمجھا جاتا ہے مگر کیا کریں۔ چند ماہ پہلے میں نے پیش گوئی کی تھی کہ ”جس دن یہاں کوئی اور بے گناہ جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا یا ایسے کسی مقابلے کی ویڈیو وائرل ہو گئی اُس دن ’سستے اور فوری انصاف‘ کا یہ نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ یہ پہلے بھی ہوا ہے اور آئندہ بھی ہو گا، وقت کا انتظار کیجیے۔“ مجھے کیا معلوم تھا کہ ’انصاف‘ کا یہ خون خوار نظام ہانیہ کی جان لے لے گا۔ اور اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو اِس میں سب قصور پولیس کا نہیں بلکہ اُن تمام لوگوں کا ہے جو بڑھ چڑھ کر سستے اور فوری انصاف والے پولیس مقابلوں کی حمایت کرتے تھے /ہیں /رہیں گے۔ معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں۔ اب ہم سب ہانیہ کا ماتم کر رہے ہیں، مگر کس منہ سے؟ قاتل تو ہم خود ہیں۔ نانا پاٹیکر کی ایک فلم آئی تھی، اب تک چھپّن، جس میں نانا پاٹیکر نے ایک ایسے پولیس افسر کا کردار ادا کیا تھا جو انڈر ورلڈ کے خاتمے کے لیے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے اور مجرموں کو چن چن کر جعلی مقابلوں میں مارتا ہے۔ فلم میں پولیس مقابلوں کی گنتی کسی کرکٹ میچ کے اسکور کارڈ کی طرح دکھائی جاتی ہے کہ ’اب تک چھپن ہو گئے، اب ستاون ہونے والے ہیں‘ ۔ عوام سینما ہالز میں ایسی فلموں پر تالیاں بجاتے ہیں، سیٹیاں مارتے ہیں اور اپنے ذہنوں میں یہ بٹھا لیتے ہیں کہ اصل ہیرو وہی ہے جو عدالت جانے کی زحمت کیے بغیر ملزم کے ماتھے کے بیچوں بیچ گولی مار دے۔
پولیس مقابلوں میں متعلقہ افسر محض قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا بلکہ وہ جھوٹ کا ایک پورا کارخانہ کھول دیتا ہے اور پھر ایف آئی آر سے لے کر جوڈیشل انکوائری رپورٹ تک، سب کچھ اُس کارخانے میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اِس ہانیہ کیس کی شروعات بھی جھوٹ سے ہوئی ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق ابتدائی ایف آئی آر میں سی سی ڈی کے اہلکار کی جانب سے مبینہ فائرنگ کا کوئی ذکر نہیں تھا تاہم بعد ازاں عدالت میں پیش کیے گئے عبوری چالان میں فائرنگ کرنے والے سی سی ڈی اہلکار کو ملزم ظاہر کیا گیا ہے۔ چکوال پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی اردو کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عبوری چالان میں بعد ازاں کی گئی ترامیم متاثرہ خاندان کے کہنے پر کی گئی ہیں۔

پولیس اب لاکھ تحقیقات کرے، نیا کوڈ آف کنڈکٹ جاری کرے، متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا دعوی کرے، نو برس کی ہانیہ نہ اب واپس آئے گی اور نہ ہی اِس لفاظی سے کوئی فرق پڑے گا۔ جب تک پولیس مقابلوں کا یہ ماڈل چلے گا، کبھی سانحہ ساہیوال ہو گا تو کبھی سانحہ چکوال۔ یہ پورا ماڈل اِس مفروضے پر کھڑا ہے کہ موقع پر موجود پولیس والا انصاف اور ہوشمندی کے تمام تقاضے پورے کر کے اصل مجرم کو کم سے کم طاقت استعمال کر کے فوری طور پر کیفرکردار تک پہنچائے گا جس کے صلے میں اُسے تئیس مارچ کو جرات اور بہادری کا تمغہ بھی دیا جائے گا۔ جس ’اصول‘ پر جعلی پولیس مقابلہ کام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ قانون کا روایتی نظام فرسودہ اور ناکارہ ہو چکا ہے لہذا عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس اگر مجرموں کو جعلی مقابلوں میں مار بھی دے تو کوئی حرج نہیں۔ ویسے تو مہذب دنیا میں یہ بحث دفن ہو چکی ہے لیکن ہمارے ہاں چونکہ اعلیٰ سطح پر بھی اِن مقابلوں کا دفاع کیا جاتا ہے تو جواباً عرض ہے کہ اگر یہی ’اصول‘ کوئی عام شہری پولیس کے بارے میں اپنا لے تو اسے بھی درست ماننا پڑے گا۔ یعنی اگر میں یہ سمجھوں کہ فلاں تھانے میں کسی پولیس والے نے ایک بے گناہ شہری کو حبس بے جا میں رکھا ہے اور قانونی راستہ بہت پیچیدہ ہے تو مجھے بھی یہ حق حاصل ہو گا کہ پولیس والے کو مار کر بے گناہ شہری کو چھڑوا لے جاؤں!

اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ اکثر ایک دوسرے سے کہتے پھرتے ہیں کہ عوام میں حکومتی اداروں کا تاثر درست کرنے کے لیے ہم انقلابی اقدامات کر رہے ہیں لیکن اِن کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا۔ اِس لیے نہیں ہوتا کہ ایک پولیس والا اٹھتا ہے اور نو سال کی بچی کو اندھا دھند فائرنگ کر کے ہلاک کر دیتا ہے، حالانکہ اِس سے کہیں بہتر تھا کہ وہ ڈکیتی کی واردات ہونے دیتا اور بعد ازاں ڈاکوؤں کا تعاقب کر کے انہیں گرفتار کرتا۔ لیکن پھر اسے نانا پاٹیکر کون کہتا! پولیس کا ایک اے ایس آئی کافی ہے پوری حکومت کی کارکردگی کو صفر بنانے کے لیے۔ جب آپ حکومت کی کُل عِزّت اے ایس آئی کے حوالے کر دیں گے کہ وہ موقع پر انصاف کر دے تو اُس کا یہی نتیجہ نکلے گا جو چکوال میں ہوا۔ کسی اے ایس آئی نے ’انصاف‘ کر دیا۔ لیکن، میرے منہ خاک، یہ بھی آخری واقعہ نہیں ہے، کیونکہ جعلی پولیس مقابلے اب بھی ہماری شان ہیں اور نانا پاٹیکر بننے کا شوق ابھی اترا نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں