بہاولپور میں عوام کی دہلیز پر مسائل کا فوری حل، راولپنڈی میں شکایات، نشاندہیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود خاموشی
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی): ایک ہی محکمے کے دو کنٹونمنٹ بورڈز، مگر عوامی مسائل سے نمٹنے کے انداز میں زمین آسمان کا فرق۔ بہاولپور کنٹونمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عوام کے درمیان پہنچ کر ان کے مسائل سنتے ہیں، کھلی کچہری لگاتے ہیں اور بعض مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی اقدامات کرتے ہیں، جبکہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں متعدد شکایات، نشاندہیوں اور شواہد کے باوجود شہری تاحال جواب کے منتظر ہیں۔بہاولپور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عوام کے درمیان پہنچنا اس بات کی مثال ہے کہ افسر اگر چاہے تو مسائل فائلوں میں پڑے رہنے کے بجائے شہریوں کی دہلیز پر جا کر بھی سن سکتا ہے اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کر سکتا ہے۔دوسری جانب راولپنڈی میں جتنی مرضی شکایات، نشاندہیاں اور دستاویزی شواہد سامنے رکھ دیے جائیں، بظاہر ذمہ دار حلقوں کی خاموشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
خصوصاً ڈرافٹ مین حمزہ اور بعض بلڈنگ انسپکٹرز کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں، شہریوں کو ہراساں کرنے، نوٹسز کے ذریعے دباؤ ڈالنے اور مبینہ مالی مطالبات سے متعلق متعدد شکایات اور دستاویزات پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم ان معاملات پر تاحال کوئی واضح اور تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا۔راولپنڈی میں مبینہ طور پر متعدد ایسی انکوائریاں بھی موجود ہیں جو طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔ شکایت سامنے آنے پر انکوائری شروع ہونے کا بتا دیا جاتا ہے، مگر بعض معاملات میں یہ انکوائریاں چھ چھ ماہ بلکہ سال سال تک چلتی رہتی ہیں اور پھر عملی کارروائی کے بغیر ہی معاملہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر انکوائری کا مقصد حقیقت سامنے لانا ہے تو اس کی کوئی حتمی مدت اور نتیجہ بھی ہونا چاہیے، محض انکوائری شروع کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔
شہریوں کا سوال ہے کہ اگر شکایات بے بنیاد ہیں تو تحقیقات کرا کے انہیں غلط ثابت کیوں نہیں کیا جاتا، اور اگر شکایات میں وزن ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟دوسری جانب بعض شکایات میں متعلقہ اہلکاروں سے منسوب یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ “ہم یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کرتے، اوپر تک حصہ جاتا ہے۔” اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے، تاہم ایسے دعووں کی موجودگی میں شفاف اور مقررہ مدت میں تحقیقات مزید ضروری ہو جاتی ہیں۔ایک طرف بہاولپور کا چیف ایگزیکٹو آفیسر عوام کے درمیان جا کر مسائل سن رہا ہے، دوسری طرف راولپنڈی میں شکایات، نشاندہیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود خاموشی برقرار ہے۔سوال صرف ڈرافٹ مین حمزہ یا کسی ایک بلڈنگ انسپکٹر کا نہیں، اصل سوال اس نگرانی کے نظام کا ہے جس کے سربراہ کو شکایات سے آگاہ کرنے کے باوجود کارروائی نظر نہیں آتی۔ بہاولپور کا چیف ایگزیکٹو آفیسر عوام کی دہلیز پر ہے، جبکہ راولپنڈی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر خوابِ خرگوش میں—آخر یہ فرق کیوں؟






