
لاہور (ہیلتھ رپورٹر) چلڈرن ہسپتال لاہور کے شعبہ الٹراساؤنڈ کے انچارج ڈاکٹر قیصر محمود نے کہا ہے کہ بچوں کی بیماریوں کی تشخیص میں الٹراساؤنڈ ایک “تیسری آنکھ” کا کردار ادا کرتا ہے اور یہ مکمل طور پر محفوظ طریقہ ہے جس میں مضر شعاعیں شامل نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں میں علامات واضح نہ ہونے کے باعث تشخیص مشکل ہوتی ہے، تاہم الٹراساؤنڈ اندرونی اعضا کی فوری تصاویر فراہم کر کے بروقت اور درست علاج ممکن بناتا ہے۔
ڈاکٹر قیصر محمود کے مطابق یہ گردوں کی بیماریوں، پیدائشی نقائص، پتھری اور اپینڈکس کی تشخیص میں مفید ہے، جبکہ بایواپسی کو بھی زیادہ محفوظ بناتا ہے۔ جگر کے پھوڑے کی صورت میں یہ فوری تشخیص اور بغیر بڑے آپریشن کے علاج میں مدد دیتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جوڑوں کے درد یا سوزش کی ابتدائی تشخیص بھی الٹراساؤنڈ سے ممکن ہے، جبکہ رسولیوں کی نشاندہی میں بھی یہ مؤثر ہے۔
والدین کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود علاج سے گریز کریں اور مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ الٹراساؤنڈ ایک آسان، بغیر درد طریقہ ہے جو غیر ضروری آپریشن اور ادویات سے بچاتا ہے، جبکہ بروقت تشخیص صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔