14

پروفیشنل ایسوسی ایشن آف انشورنس سروئیرز آف پاکستان (PAISP) کا ایک ہنگامی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے انشورنس بل 2026 پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ایسوسی ایشن کے صدر جنید زیدی نے بل کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون سازی کا بڑا حصہ نامکمل ہے۔ قواعد کی تشکیل کے نام پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کو قانون سازی کا اختیاردیا گیا ہے
،حالانکہ SECP ایک ریگولیٹری ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ضوابط بنانا اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ قانون سازی کرنا۔

بل پیش کرنے کا مقصد انشورنس کے نظام کو ڈیجیٹل بنانا اور کلیمز کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے، تاہم بل میں انشورنس سروئیرز کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی واضح شق شامل نہیں کی گئی۔ اسی طرح سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل انشورنس کے تحفظات سے متعلق بھی خاطر خواہ وضاحت موجود نہیں ہے۔

صدرِ ایسوسی ایشن نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب انشورنس ایکٹ 1938 نافذ ہوا تو کلیمز کی ادائیگی کے حوالے سے متعدد مسائل پیدا ہوتے تھے اور بہت سے پالیسی ہولڈرز اپنے جائز انشورنس کلیمز حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے تھے۔ ان مسائل کے حل کے لیے 1958 میں ایکٹ میں ترمیم 44-A کے ذریعے انشورنس سروئیرز کو ایک غیر جانبدار اور آزاد پیشہ ور کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ انہیں نقصانات کا تخمینہ لگانے اور کلیمز کی جانچ پڑتال کے لیے لائسنس جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں کلیمز کی ادائیگی سے متعلق تنازعات میں نمایاں کمی آئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر انشورنس بل 2026 میں انشورنس سروئیرز کا مؤثر کردار ختم کر دیا جاتا ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا اختیار دوبارہ انشورنس کمپنیوں کو دے دیا جاتا ہے تو کلیمز کے تصفیے میں شفافیت متاثر ہوگی اور ملک کو ان مسائل کا دوبارہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو 1958 کی اصلاحات سے پہلے موجود تھے۔

لہٰذا ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ بل کو ازسرِ نو تشکیل کے لیے وزارتِ تجارت کو واپس بھیجا جائے تاکہ متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے جو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد جامع قانون سازی کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں