کینٹونمنٹس ایکٹ کی دفعات 179 تا 181 میں پیشگی منظوری کا قانونی طریقہ واضح، دفعہ 184 کے تحت منظوری سے پہلے تعمیر قابلِ سزا
ذرائع کا دعویٰ: نقشہ منظور کرانے کے نام پر پیشگی رقوم لینے اور تعمیر جاری رکھنے کی مبینہ روایت ہی کرپشن کی بنیادی وجہ بن گئی
دفعہ 185 میں غیر مجاز تعمیر رکوانے، تبدیلی یا انہدام کا اختیار؛ نئی ایڈیشنل سی او کے لیے قانون کی یکساں عملداری بڑا امتحان
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی سے ) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں بلڈنگ بائی لاز اور تعمیراتی نقشوں کی منظوری کے طریقۂ کار پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں بعض رہائشی اور کمرشل عمارتوں پر نقشے کی باقاعدہ منظوری سے قبل ہی تعمیراتی کام شروع ہونے جبکہ بعض کیسز میں تعمیر خاصی حد تک مکمل ہونے کے بعد نقشہ منظوری کا عمل آگے بڑھائے جانے کی شکایات موجود ہیں۔صورتحال نے یہ بنیادی سوال پیدا کر دیا ہے کہ جب قانون تعمیر سے قبل منظوری کا تقاضا کرتا ہے تو نقشہ زیرِ کارروائی ہونے یا محض فیس جمع ہونے کو تعمیر جاری رکھنے کا جواز کیسے بنایا جا سکتا ہے؟کینٹونمنٹس ایکٹ 1924 میں عمارت کی تعمیر اور دوبارہ تعمیر کا باقاعدہ قانونی طریقہ موجود ہے۔ دفعہ 179 کے تحت کینٹونمنٹ میں عمارت تعمیر یا دوبارہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھنے والے شخص کو منظوری کے لیے نوٹس دینا ہوتا ہے، جبکہ دفعہ 180 نقشے اور مطلوبہ تفصیلات کی فراہمی سے متعلق قانونی تقاضے طے کرتی ہے۔ دفعہ 181 کے تحت بورڈ کو تعمیر کی منظوری دینے یا اسے مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ دفعہ 184 کے تحت مطلوبہ نوٹس دیے بغیر، یا عمارت کا نقشہ منظور ہونے یا قانوناً منظور تصور ہونے سے پہلے تعمیر شروع، جاری یا مکمل کرنا غیر مجاز تعمیر کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح دفعہ 185 کے تحت بورڈ ایسی تعمیر کو رکوانے کے ساتھ ضرورت کے مطابق عمارت یا اس کے کسی حصے میں تبدیلی یا انہدام کا حکم بھی دے سکتا ہے۔اس واضح قانونی پوزیشن کے باوجود ذرائع الزام عائد کرتے ہیں کہ بعض معاملات میں اصل کھیل نقشہ منظور ہونے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلڈنگ بائی لاز سے مکمل واقفیت نہ رکھنے والے بعض شہریوں کو مبینہ طور پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ “آپ تعمیر شروع کریں، نقشہ بعد میں منظور کروا دیا جائے گا” اور اسی یقین دہانی کی بنیاد پر بعض اہلکاروں یا مبینہ سہولت کاروں کی جانب سے پیشگی رقوم وصول کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہی طریقہ مبینہ بدعنوانی کی بنیادی وجہ بنتا ہے کیونکہ جب نقشہ منظور ہونے سے پہلے ہی تعمیر چلنے دی جائے تو عمارت کا مالک قانونی کارروائی کے خوف اور نقشہ بعد میں منظور کرانے کی ضرورت کے باعث متعلقہ افراد پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ بعد ازاں اسے نقشہ منظور کرانے، تعمیر کو قانونی شکل دینے یا خلاف ورزیوں کو ریگولرائز کرانے کے نام پر مزید ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ان مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق بعض کیسز میں نقشہ بعد میں تیار یا منظور ہونے تک موقع پر موجود عمارت نقشے سے مختلف شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے، جبکہ بعد ازاں اضافی تعمیر، کمرشل استعمال یا کمرشلائزیشن فیس سمیت مختلف قانونی راستوں سے معاملہ نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں یہ جانچ بھی ضروری ہے کہ موقع پر موجود تعمیر، جمع کرائے گئے نقشے اور بالآخر منظور ہونے والے نقشے میں کس حد تک مطابقت موجود ہے۔اب نظریں راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی نئی ایڈیشنل سی او پر بھی مرکوز ہیں، جنہوں نے حال ہی میں ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ ان کے بارے میں انتظامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ بلڈنگ بائی لاز کے مطابق معاملات چلانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ نقشہ منظوری سے قبل جاری تعمیرات اور منظور شدہ نقشوں سے انحراف کے معاملات میں کینٹونمنٹس ایکٹ اور بلڈنگ بائی لاز کا یکساں اطلاق یقینی بنایا جاتا ہے یا ماضی سے منسوب طریقۂ کار ہی جاری رہتا ہے۔راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ یا متعلقہ افسران کی جانب سے ان الزامات اور شکایات پر مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔
