سروسز ہسپتال کینٹین کا متنازع ٹھیکہ عیاں
جعلی اشٹام پیپر استعمال کرنے اور ایکسپیرینس سرٹیفکیٹ سے محروم بشیر برادرز فرم اپنے دستاویزات میں رانا علی حسنین کا سرٹیفکیٹ لگانے کی ڈیڑھ ہوشیاری پر ایکسپوز
نا مکمل دستاویزات والی “Bashir Brothers” فرم ہر سمت سے نا اہل ہونے کے باوجود ایم ایس کو عجب گیڈر سنگھی سونگھا کر ٹھیکہ لے اُڑی۔!
ستمبر 2025کو ایڈیشنل ایم ایس کی سربراہی میں جی اینڈآر سی کمیٹی نے بھی شہزاد قیوم کی اس فرم کو ریجیکٹ کیا مگرایم ایس ٹھیکہ دینے پرتُلے رہے
شہزاد قیوم مجموعی طور پر 5 0 عدد فرموں کے مالک ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹھیکہ لینے والی فرم SECP کی رجسٹریشن سے بھی محروم ہے
ان کی فرم SECP میں “Bashir Brothers (PVT) LTD” درج حروف کیساتھ رجسٹرڈ ہے جو ٹھیکہ لینے والی فرم کے حروف سے متضاد ہے
ایم ایس نے سال 2025-26 کا کینٹین ٹھیکہ 09 عدد فرموں کے کمپیٹشن میں سے مکھن سے بال نکالنے کی طرح بشیر برادرز کو دے کر اہم کردار ادا کیا
لاڈلے ٹھیکیدار نے مقررہ وقت گزرنے کے باوجود کوئی پیسہ جمع نہ کراویا ، ایم ایس نے فروری 2026 میں منت سماجت والا لیٹر جاری کیا، دال میں کچھ تو کالا ہے۔!
لاہور( نیوز انویسٹی گیشن سیل، عمر حیات چوہدری) محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کے زیر عتاب سروسز ہسپتال میں عجب غیر قانونی سرگرمیاں رونما ہو رہی ہیں جو روزنامہ عوامی مشن نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے عوام اور حکمرانوں کے سامنے کھل کر عیاں کر دیں ہیں من پسند،لاڈلے،نا اہل ٹھیکیداروں کی پشت پناہی یا پھر عجلت میں غیر قانونی اقدامات کرنے جیسے واقعات سامنے آ رہے ہیں تفصیلات اور انویسٹی گیشن کی روح سے سروسز ہسپتال لاہور کے ایم ایس نے سال 2025-26 کینٹین کا ٹھیکہ غیر قانونی طریقے سے اور نا اہل فرم کی جھولی میں ڈال کر اپنی کارکردگی پر بد نما داغ لگانے جیسے اقدامات کر دئیے ہیں اور اس سے حلقہ احباب میں بھی سینہ چھلنی کر دینے والے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں 04کروڑ سے زائد کا کینٹین کا ٹھیکہ لینے والی “Bashir Brothers” درج حروف بائے حروف والی فرم نا مکمل دستاویزات کے ساتھ اور SECP سرٹیفکیٹ سے محروم نا اہل فرم نے ایم ایس کی بھر پور سپورٹ کے ساتھ حاصل کیا جو قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے بشیر برادرز نے اپنے ٹھیکے والے دستاویزات میں مبینہ جعلی اشٹام پیپر استعمال کرنے پر اور ایکسپیرینس سرٹیفکیٹ سے محروم ہونے کی وجہ سے چپکے سے رانا علی حسنین کا سرٹیفکیٹ لگانے کی ڈیڑھ ہوشیاری پر ایکسپوز ہو گئے ہیں نا مکمل دستاویزات والی فرم ہر سمت سے نا اہل ہونے کے باوجود ایم ایس کو عجب گیڈر سنگھی سونگھا کر ٹھیکہ لے اُڑی ہے۔!حالانکہ ستمبر 2025کو ایڈیشنل ایم ایس کی سربراہی میں جی اینڈآر سی کمیٹی نے بھی شہزاد قیوم کی اس فرم کو ریجیکٹ کیا مگرایم ایس نا معلوم وجوہات کی بناء پر ٹھیکہ دینے پرتُلے رہے شہزاد قیوم مجموعی طور پر 5 0 عدد فرموں کے مالک ہیںدلچسپ امر یہ ہے کہ ٹھیکہ لینے والی فرم SECP کی رجسٹریشن سے بھی محروم ہے کیونکہ ان کی فرم SECP میں “Bashir Brothers (PVT) LTD” درج حروف کیساتھ رجسٹرڈ ہے جو ٹھیکہ لینے والی فرم “Bashir Brothers” کے حروف سے متضاد ہے چونکہ FBR,PRA اور GST ، اور SECP میں فرم کے ہر پلیٹ فارم پر سیم حروف ہی درج ہونا اور رجسٹرڈ ہونا قانون کے عین مطابق ہونا لازم ہے اور پھر اس کے علاوہ ان تمام رجسٹریشن کے حروف کے عین مطابق ہی بنک اکائونٹ ہونا لازم ہے اگر ان کے کسی ایک بھی پلیٹ فارم پر ایک ڈاٹ سمیت ایک حرف کو تبدیل کر دیا جائے تو اس کی رجسٹریشن کو قانونی دائرہ اختیار سے باہر تصور کیا جائے گاچونکہ ورک آرڈر ، ایکسٹیپنس لیٹر میں درج حروف کے عین مطابق ہی ادائیگیوں کے بلز ، چیک بائے نیم بنتا ہے جس کو ٹھیکیدار اپنے اکائونٹ میں جمع کروا کر اس کو کیش کروا سکتا ہے اگر رجسٹرڈ اکائونٹ کے ایک حرف میں بھی اس کی تبدیلی ہو گی تو اس کا چیک پاس نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی محکمہ کا فنانس ڈیپارٹمنٹ اس کو پاس کر سکتا ہے مگر ان تمام قوانین کے برعکس ایم ایس نے سال 2025-26 کا کینٹین ٹھیکہ 09 عدد فرموں کے کمپیٹشن میں سے مکھن سے بال نکالنے کی طرح بشیر برادرز کو دے کر اہم کردار ادا کیا ہے مزید دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ لاڈلے ٹھیکیدار نے مقررہ وقت گزرنے کے باوجود کوئی پیسہ جمع نہ کراویا تھا جس پر ایم ایس نے فروری 2026 میں جا کر پیسے جمع کروانے کی منت سماجت والا لیٹر نمبر 15495 مورخہ 09-02-2026 کو جاری کیا اس تو دال میں کچھ تو کالا لگتا ہے۔! بہر حال سروسز ہسپتال کینٹین کا متنازع ٹھیکہ بالآخر نا اہل فرم کی جھولی میں ہی گرا جس کے بعدایم ایس نے بشیر برادرز کو 04کروڑ سے زائد کا غیر قانونی ٹھیکہ ہاتھوں ہاتھ دے کر قانون ہاتھ میں لے لیا ہے ۔! وزیر اعلیٰ پنجاب سے اس کا نوٹس لینے، ریکوری کروا کر خزانے میں جمع کروانے کی اپیل کی جاتی ہے







