2

کنٹونمنٹ بورڈ میں ’’سیل، اسٹامپ پیپر اور پھر کھول دو‘‘ کا مبینہ کھیل؟

عوامی مشن کی متعدد نشاندہیوں کے باوجود مبینہ بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری، وارڈ 8 کا میکسیکن چلیز سیل ہونے کے ایک گھنٹے بعد دوبارہ کھل گیا

رہائشی نقشہ منظور، کمرشل سرگرمیاں جاری؛ کمرشلائزیشن اور کمرشل نقشہ بعد میں منظور کرانے کے اسٹامپ پیپر پر سیل کھولنے کا مبینہ جواز

کنٹونمنٹ ایکٹ کی دفعات 178، 179، 181 اور 185-A کے ہوتے ہوئے سوال: کیا اب صرف یقین دہانی ہی کافی ہے؟

کنٹونمنٹ بورڈ کے سیکرٹری نے فائل چیک کرنے کے بعد مبینہ بے ضابطگیوں اور کمرشل نقشہ منظور نہ ہونے کی تصدیق کردی


’’سیل کس کے کہنے پر کھولی گئی؟‘‘ اعلیٰ افسران کے کہنے پر ڈی سیل کیے جانے کا دعویٰ، لاکھوں روپے بطور مبینہ بَھتہ وصول کیے جانے کے الزامات



راولپنڈی ( مدثر الیاس کیانی سے) عوامی مشن نے اپنی متعدد سابقہ خبروں اور نشاندہیوں میں پہلے ہی اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں مبینہ طور پر ’’بھتہ مافیا‘‘ کے طرز کا ایک ایسا نظام سرگرم ہے جس میں پہلے کسی کاروبار یا تعمیر کو نشانہ بنا کر سیل کیا جاتا ہے، پھر مبینہ طور پر معاملات طے ہونے اور ’’ریٹ‘‘ بڑھنے کے بعد وہی سیل کھول دی جاتی ہے۔ماضی میں کراچی میں بھتہ مافیا کے حوالے سے بھی ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ کاروباری افراد سے رقم طلب کی جاتی اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں دباؤ یا کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اب راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے طریقہ کار کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے کسی جگہ کو سیل کیا جاتا ہے اور پھر مبینہ طور پر معاملات طے ہونے کی صورت میں مختصر وقت کے اندر سیل کھول دی جاتی ہے۔اسی پس منظر میں وارڈ نمبر 8 میں واقع میکسیکن چِلّیز کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ ریسٹورنٹ کو کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے باقاعدہ سیل کیا گیا۔ موقع پر موجود شیشے پر کنٹونمنٹ بورڈ کی “SEALED” مہر بھی کارروائی کی تصدیق کرتی ہے، تاہم حیران کن طور پر مبینہ طور پر تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی سیل کھول دی گئی اور کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوگئیں۔دستیاب معلومات کے مطابق مذکورہ مقام کا منظور شدہ نقشہ رہائشی نوعیت کا ہے، جبکہ وہاں کمرشل سرگرمیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس جگہ کا باقاعدہ کمرشل نقشہ تاحال منظور نہیں ہوا۔مزید یہ کہ ذرائع کے مطابق سیل ختم کرنے کے لیے متعلقہ فریق سے مبینہ طور پر ایک اسٹامپ پیپر پر یقین دہانی لی گئی کہ وہ کمرشلائزیشن فیس ادا کرے گا، کمرشل نقشہ منظور کرائے گا اور کنٹونمنٹ بورڈ کے واجبات جمع کرائے گا، جس کے بعد سیل کھول دی گئی۔یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر عمارت کا منظور شدہ نقشہ رہائشی ہو، وہاں کمرشل سرگرمی جاری ہو اور کمرشل نقشہ منظور نہ ہوا ہو تو صرف مستقبل میں کمرشلائزیشن کرانے کی یقین دہانی پر سیل کس قانونی اختیار کے تحت ختم کی گئی؟کنٹونمنٹس ایکٹ 1924ء میں عمارتوں کی تعمیر، منظوری اور استعمال کے حوالے سے قانونی تقاضے موجود ہیں۔ دفعہ 179 کے تحت نئی عمارت تعمیر یا دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے منظوری کا طریقہ کار مقرر ہے، جبکہ دفعہ 185-A عمارت یا زمین کے استعمال میں تبدیلی کے لیے بورڈ کی تحریری اجازت کا تقاضا کرتی ہے۔اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ رہائشی نقشے پر کمرشل سرگرمی کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی اور سیل ختم کرنے کا تحریری قانونی حکم کہاں ہے؟اگر سیل قانونی خلاف ورزی کے باعث لگائی گئی تھی تو اس کے خاتمے کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار، تحریری حکم اور متعلقہ افسر کی ذمہ داری کا تعین بھی ہونا چاہیے۔اس معاملے پر دو سے تین مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈ کے سیکرٹری سے باقاعدہ رابطہ کیا گیا۔گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ رابطے پر سیکرٹری نے بتایا کہ وہ متعلقہ فائل چیک کررہے ہیں اور جائزے کے بعد حقائق سے آگاہ کریں گے۔بعد ازاں دوبارہ رابطہ کیا گیا تو سیکرٹری کنٹونمنٹ بورڈ نے واضح طور پر بتایا کہ عوامی مشن کی فراہم کردہ معلومات درست ہیں، مذکورہ عمارت کا کمرشل نقشہ منظور شدہ نہیں ہے اور عمارت کو باقاعدہ طور پر سیل کیا گیا تھا۔تاہم ان کے مطابق ایک اعلیٰ افسر کی مداخلت اور یقین دہانی کی بنیاد پر متعلقہ فریق کو تین دن کا وقت دیا گیا تاکہ وہ کمرشلائزیشن سمیت مطلوبہ دستاویزات اور واجبات کنٹونمنٹ بورڈ میں جمع کراسکے۔جب سیکرٹری سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی شخص پہلے رہائشی نقشہ منظور کراکے تعمیر کرے، بعد میں اسے کمرشل استعمال میں لے آئے اور باقاعدہ کمرشل نقشہ منظور کرانے کے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر صرف کمرشلائزیشن فیس جمع کراکے اسے کمرشلائزڈ تصور کیا جاسکتا ہے؟سیکرٹری کنٹونمنٹ بورڈ نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات اعلیٰ افسران کی ہدایات یا احکامات سامنے آنے کی صورت میں ماتحت انتظامیہ کو ان پر عمل کرنا پڑتا ہے۔سیکرٹری نے یقین دہانی کرائی تھی کہ دو سے تین دن کے اندر متعلقہ فریق مطلوبہ کارروائی مکمل کرکے دستاویزات جمع کرا دے گا۔تاہم ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود معاملے میں تاحال کوئی واضح کارروائی سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سیل کھلوانے اور معاملہ مؤخر کرانے کے لیے مبینہ طور پر لاکھوں روپے بطور بھتہ وصول کیے گئے۔ اس الزام کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے، تاہم معاملے کی مجموعی صورتحال بظاہر اس جانب ضرور اشارہ کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے، جس کے باعث مذکورہ معاملے میں اب تک غیر معمولی نرمی اور رعایت برتی جا رہی ہے۔صورتحال یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ واضح بے ضابطگی کے باوجود کارروائی آگے بڑھنے کے بجائے بار بار’’مہلت‘‘ اور ’’یقین دہانی‘‘ تک محدود ہو رہی ہے؟تاہم کنٹونمنٹ بورڈ سے یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ اگر کوئی مالی لین دین نہیں ہوا تو سیل ختم کرنے اور کارروائی مؤخر کرنے کی اصل وجہ کیا تھی اور اس کے لیے تحریری قانونی اختیار کہاں موجود ہے؟عوامی مشن کی سابقہ نشاندہیوں کے تناظر میں چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی انتظامی نگرانی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ذرائع کی جانب سے الزام سامنے آتا رہا ہے کہ بعض بااثر عناصر مبینہ طور پر کنٹونمنٹ بورڈ کے فیصلوں اور کارروائیوں پر اثرانداز ہیں اور افسران پر دباؤ رہتا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت متعلقہ حکام کا مؤقف بھی اہم ہے۔اگر یہ الزامات درست نہیں تو کنٹونمنٹ بورڈ کو واضح کرنا ہوگا کہ سیلنگ، ڈی سیلنگ، کمرشلائزیشن، نقشوں اور انفورسمنٹ کے معاملات میں یکساں اور شفاف طریقہ کار کیا ہے۔کنٹونمنٹ بورڈ کے اقدامات پر سوال اٹھانے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ عام یا چھوٹے کاروباری کی جانب سے خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ بااثر یا صاحبِ حیثیت افراد کے معاملات میں مبینہ طور پر کارروائی، نوٹس اور سیلنگ مؤخر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔میکسیکن چِلّیز کے معاملے میں بھی یہی سوال سامنے آتا ہے کہ اگر کمرشل نقشہ منظور نہیں تھا اور سیل باقاعدہ لگائی گئی تھی تو پھر سیل کھولنے کا تحریری حکم کہاں ہے اور اس کی قانونی بنیاد کیا تھی؟
اور اگر کنٹونمنٹ بورڈ خود تسلیم کرتا ہے کہ رہائشی نقشے کو براہِ راست کمرشل استعمال میں لانا درست نہیں تو صرف یقین دہانی کی بنیاد پر کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی اجازت کس ضابطے کے تحت دی گئی؟
عوامی مشن اس معاملے کی مزید دستاویزات، نقشوں، سیلنگ و ڈی سیلنگ ریکارڈ اور کمرشلائزیشن فائل کی بنیاد پر مزید حقائق سامنے لانے کا سلسلہ جاری رکھے گا، جبکہ متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ اصل فائل اور سیل کھولنے کے حکم کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے۔

*ایک ہی کنٹونمنٹ بورڈ، وارڈ 8 اور 9 میں قانون کے دو مختلف معیار؟*

*وارڈ 8 میں مبینہ خلاف ورزی پر سیل، پھر اسٹامپ پیپر پر یقین دہانی کے بعد نرمی؛ وارڈ 9 میں 42 لاکھ روپے جمع ہونے کے باوجود پہلے انہدامی کارروائی، نشاندہی کرنے والا بلڈنگ انسپکٹر معطل*

راولپنڈی(مدثر الیاس کیانی سے) وارڈ نمبر 8 میں مبینہ غیر قانونی کمرشل سرگرمی کے معاملے میں سیل کے بعد اسٹامپ پیپر پر یقین دہانی کے ذریعے مہلت دی گئی، جبکہ وارڈ نمبر 9 میں تقریباً اسی نوعیت کے معاملے پر فوری طور پر ڈیمولیشن کے احکامات جاری کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ مالک نے 42 لاکھ روپے کمرشلائزیشن فیس کی مد میں جمع بھی کرائے، اس کے باوجود انفورسمنٹ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے عمارت کا کچھ حصہ منہدم کردیا۔مزید اہم امر یہ ہے کہ اسی معاملے کی نشاندہی کرنے والے بلڈنگ انسپکٹر کو بعد ازاں فوری طور پر معطل کردیا گیا۔ مذکورہ انسپکٹر نے عوامی مشن کو دستاویزات اور شواہد فراہم کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کارروائی سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مسلسل سپر چیکر پیر سیف اللہ کو مذکورہ عمارت کے بارے میں آگاہ کررہا تھا، تاہم اس کے بقول سپر چیکر قانونی کارروائی کے بجائے متعلقہ فریق سے مبینہ طور پر ذاتی نوعیت کی رقم وصول کرکے معاملہ خاموش کرانے پر بضد تھے۔انسپکٹر کے مطابق اس نے غیر قانونی کام پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا اور اپنے مؤقف پر قائم رہا۔ کارروائی سے تقریباً تین روز قبل اسی معاملے پر بلڈنگ انسپکٹر اور سپر چیکر پیر سیف اللہ کے درمیان مبینہ تلخ کلامی بھی ہوئی، جس کی کنٹونمنٹ بورڈ کے بعض ملازمین نے بھی تصدیق کی ہے۔بلڈنگ انسپکٹر کا الزام ہے کہ پیر سیف اللہ کی جانب سے ہر بلڈنگ انسپکٹر سے ہر جمعرات مخصوص رقم ذاتی استعمال کے لیے طلب کی جاتی تھی اور انہیں بتایا جاتا تھا کہ یہ رقم اعلیٰ حکام تک پہنچائی جاتی ہے۔ انسپکٹر نے مبینہ طور پر یہ رقم دینے سے انکار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا جارہا تو یہ رقم کس مد میں اور کیوں دی جائے؟انسپکٹر کا دعویٰ ہے کہ اسی اختلاف کے بعد پیر سیف اللہ نے اعلیٰ افسران کو مبینہ طور پر غلط معلومات دے کر اسے معطل کرایا۔ انسپکٹر کے مطابق اس نے اس تمام معاملے سے سیکرٹری کنٹونمنٹ بورڈ عمران حبیب کو بھی آگاہ کیا تھا۔تاہم جب عوامی مشن نے سیکرٹری سے اس بارے میں مؤقف لیا تو انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی معاملہ ان کے علم میں نہیں ہے اور اگر انسپکٹر کو کوئی شکایت تھی تو اسے معطلی سے پہلے باقاعدہ طور پر آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ سیکرٹری کے مطابق اب معطلی کے بعد اس نوعیت کی شکایات سامنے لائی جارہی ہیں۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں بھی بعض بلڈنگ انسپکٹرز کی جانب سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ سپر چیکر کی طرف سے ہر جمعرات مخصوص رقم دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔اگر انتظامیہ کا اس مبینہ وصولی سے کوئی تعلق نہیں اور اس میں کسی افسر یا ادارے کا کوئی حصہ نہیں تو پھر پیر سیف اللہ مبینہ طور پر بلڈنگ انسپکٹرز سے کس قانونی یا سرکاری مد میں یہ رقم وصول کرتے تھے؟ انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے کی باقاعدہ تصدیق یا تحقیقات کیوں نہیں کرائی جارہی؟دوسری جانب یہ بنیادی قانونی سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کوئی عمارت غیر قانونی تعمیر یا غیر منظور شدہ استعمال کی مرتکب ہو تو کنٹونمنٹ بورڈ کے کس قانون، ایکٹ یا بائی لاز کے تحت پہلے کمرشلائزیشن فیس، پھر جرمانہ، اس کے بعد جرمانے کی اقساط اور بالآخر کمرشلائزیشن کی اجازت دینے کا یہ طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے؟اگر کمرشل نقشہ منظور نہیں تھا تو کیا صرف فیس اور جرمانہ جمع کرانے سے تعمیر خودبخود قانونی ہوجاتی ہے، یا پہلے باقاعدہ کمرشل نقشہ، منظوری اور دیگر قانونی مراحل مکمل کرنا ضروری ہیں؟ کنٹونمنٹس ایکٹ 1924ء یا متعلقہ بائی لاز میں اس طریقۂ کار کی واضح قانونی بنیاد کہاں درج ہے؟ایک اور سوال یہ ہے کہ جب کنٹونمنٹ بورڈ میں بعض مبینہ بے ضابطگیوں کی انکوائریاں چھ چھ ماہ سے زیرِ التوا ہیں اور متعلقہ افراد کے خلاف فوری معطلی کی کارروائی سامنے نہیں آتی، تو ایک بلڈنگ انسپکٹر کی جانب سے مبینہ غیر قانونی تعمیر کی نشاندہی کرنے اور ہر جمعرات رقم دینے سے انکار کے بعد اس کے خلاف فوری معطلی کی کارروائی کی کیا منطق ہے؟
یہی وہ تضاد ہے جس کی وضاحت کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ کو ریکارڈ اور تحریری احکامات کی بنیاد پر کرنا ہوگی۔

*راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں کمان کس کے ہاتھ میں؟ چیف ایگزیکٹو عامر رشید کی انتظامی گرفت پر سوال*

*چکلالہ میں دبنگ افسر کا تاثر، راولپنڈی میں مبینہ بے بسی؛ نقشوں، اولڈ گرانٹ پراپرٹیز، پارکنگ اور کمرشلائزیشن کے معاملات پر مسلسل سوالات، اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا مطالبہ*

راولپنڈی(مدثر الیاس کیانی سے) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اب ماتحت افسران سے بڑھ کر براہِ راست چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی انتظامی کمان تک پہنچ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس افسر کو چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ میں ایک دبنگ اور فیصلہ کن افسر کے طور پر دیکھا جاتا تھا، وہ راولپنڈی جیسے بڑے اور حساس کنٹونمنٹ بورڈ میں مسلسل سامنے آنے والے معاملات کے باوجود اتنے بے بس اور خاموش کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟کنٹونمنٹس ایکٹ 1924ء کی دفعہ 24 کے تحت ایگزیکٹو آفیسر ایکٹ کے تحت عائد فرائض ادا کرنے اور کنٹونمنٹ کی انتظامیہ سے متعلق بورڈ کی ہدایات پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے۔ تعمیرات کے حوالے سے ایکٹ کی دفعہ 179 عمارت کی تعمیر یا دوبارہ تعمیر کے لیے منظوری کا تقاضا کرتی ہے، جبکہ متعلقہ تعمیراتی معاملات میں بورڈ کے منظوری کے اختیارات بھی قانون میں متعین ہیں۔راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے مختلف علاقوں میں اولڈ گرانٹ پراپرٹیز پر تعمیرات، منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر تعمیرات، پلازوں کی پارکنگ ختم کیے جانے، کمرشل نقشوں کی عدم منظوری، بعض نقشوں کی فیسیں جمع نہ ہونے اور کمرشلائزیشن کے بغیر کمرشل سرگرمیوں سمیت متعدد معاملات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بعض معاملات میں دستاویزی شواہد اور زمینی صورتحال بھی سامنے لائی جاچکی ہے، مگر اس کے باوجود مؤثر اور حتمی کارروائی دکھائی نہ دے تو سوال براہِ راست انتظامی نگرانی پر آتا ہے۔ذرائع کے مطابق اگر یہ کسی ’’مافیا‘‘ کا معاملہ نہیں اور چیف ایگزیکٹو کسی بااثر گروہ کے دباؤ یا اثر میں نہیں تو پھر آخر وہ کون سی وجہ ہے جس کے باعث اتنی مبینہ غیر قانونی چیزیں، شواہد اور بار بار نشاندہی کے باوجود کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی؟ کیا چیف ایگزیکٹو صاحب ان معاملات سے بے خبر ہیں، یا پھر اتنی سنگین نشاندہیوں کے باوجود خوابِ خرگوش میں ہیں؟ اگر وہ باخبر ہیں تو کارروائی کہاں ہے، اور اگر بے خبر ہیں تو پھر اتنے بڑے کنٹونمنٹ بورڈ کی نگرانی کس کے پاس ہے؟کچھ عرصہ قبل اولڈ گرانٹ پراپرٹی کے ایک معاملے میں بھی چیف ایگزیکٹو عامر رشید کی انتظامی کمان پر سوالات اٹھے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے ڈرافٹ مین حمزہ کی فوری معطلی کے احکامات جاری کیے، جن کا باقاعدہ آرڈر بھی تیار کرکے ٹائپ کرلیا گیا، تاہم اس پر نمبر درج نہیں کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق چند ہی گھنٹوں بعد یہ حکم واپس لے لیا گیا۔ اگر معطلی کا باقاعدہ آرڈر تیار ہوچکا تھا تو پھر اسے نمبر جاری کرکے نافذ کرنے کے بجائے واپس لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ سوال بھی چیف ایگزیکٹو کی فیصلہ سازی اور انتظامی گرفت کے حوالے سے جواب طلب ہے۔عامر رشید کے حوالے سے ماضی میں چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ میں سخت اور فیصلہ کن انتظامی کارروائیوں کا تاثر موجود رہا ہے، تاہم راولپنڈی میں ان کی تعیناتی کے وقت جو حلقے ایک دبنگ افسر کی آمد پر خوش تھے، اب انہی حلقوں میں مایوسی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بعض اہلِ کینٹ اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے اب اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں نقشوں، تعمیرات، کمرشلائزیشن، فیسوں اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ایم ای او کی نگرانی میں کام کرے۔مطالبہ کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسی کمیٹی اگر مکمل ریکارڈ، منظور شدہ نقشوں، موقع پر موجود تعمیرات، جمع شدہ فیسوں اور کمرشلائزیشن کے معاملات کا تقابلی جائزہ لے تو راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کو نقشوں اور تعمیراتی معاملات میں مبینہ طور پر پہنچنے والے مالی نقصان کی اصل صورتحال سامنے آسکتی ہے۔ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ ڈائریکٹر آفس میں بھی ایک سینئر سروے ڈرافٹ مین موجود ہے اور اگر اسے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے نقشوں اور تعمیرات کے ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ پر مامور کیا جائے تو بہت سے ایسے معاملات سامنے آسکتے ہیں جو اس وقت اعلیٰ حکام کی نظر سے اوجھل ہیں۔ دوسری جانب بعض ذرائع کی جانب سے یہ الزام بھی سامنے آتا ہے کہ بااثر عناصر مبینہ طور پر بورڈ کے انتظامی معاملات پر اثرانداز ہیں۔ اگر یہ الزام درست نہیں تو پھر چیف ایگزیکٹو کی سطح پر واضح، فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ اور اگر کوئی گروہ واقعی انتظامی فیصلوں کو متاثر کررہا ہے تو پھر اسے روکنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟یہ سوال بھی اب اہم ہوگیا ہے کہ کروڑوں روپے کا ریونیو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا کنٹونمنٹ بورڈ دن بدن مالی دباؤ اور ریونیو لیکیج کا شکار کیوں دکھائی دے رہا ہے، جبکہ بعض متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے اثاثوں میں مبینہ طور پر مسلسل اضافہ ہورہا ہے؟ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایسے افراد جن کے پاس ماضی میں محدود وسائل تھے، آج ان کے پاس متعدد جائیدادیں اور چار، پانچ کوٹھیاں تک موجود ہیں۔ اگر کسی افسر یا اہلکار کے اثاثے اس کی معلوم آمدن کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بڑھتے ہیں تو سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ان اثاثوں کا ذریعہ کیا ہے؟ اور اگر الزام یہ ہے کہ بورڈ کے خزانے میں جانے والی فیسیں، کمرشلائزیشن کی رقوم، نقشوں کے واجبات یا دیگر ریونیو ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہوئے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں؟دوسری طرف راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس وسیع ریونیو بیس، کمرشل پراپرٹیز اور تجربہ کار افسران و عملہ موجود ہے۔ اگر چیف ایگزیکٹو عامر رشید راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کو اسی سنجیدگی سے لیں جس کا تاثر چکلالہ میں ان کی سابقہ کارکردگی سے وابستہ رہا ہے تو نقشوں، کمرشلائزیشن، واجبات، غیر قانونی تعمیرات اور ریونیو لیکیج کے معاملات پر سخت نگرانی کے ذریعے بورڈ کی آمدن میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہے۔ موجودہ وسائل اور ریونیو ذرائع کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو بورڈ کی ماہانہ آمدن میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔اب بعض ذرائع یہاں تک سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر چیف ایگزیکٹو آفیسر اتنے حساس کنٹونمنٹ بورڈ کی کمان مؤثر انداز میں نہیں سنبھال پا رہے تو اعلیٰ حکام کو ان کی انتظامی کارکردگی کا جائزہ لے کر کسی نسبتاً چھوٹے ’’بی‘‘ کیٹیگری کنٹونمنٹ بورڈ میں تعیناتی پر غور کرنا چاہیے، جہاں انتظامی ذمہ داریاں نسبتاً محدود ہوں۔ یہ ایک انتظامی تجویز ہے، تاہم اس کے برعکس چیف ایگزیکٹو کے پاس یہ موقع بھی موجود ہے کہ وہ مؤثر کارروائی، شفاف نگرانی اور قانون کے بلاامتیاز نفاذ کے ذریعے اپنی انتظامی گرفت ثابت کریں۔اب سوال کسی ایک پلازے، ایک نقشے یا ایک ماتحت افسر کا نہیں رہا؛ سوال براہِ راست چیف ایگزیکٹو عامر رشید کی کمان کا ہے۔ اگر اختیار ان کے پاس ہے تو پھر فیصلہ کن کارروائی کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ اور اگر اختیارات کے باوجود وہ مبینہ بے ضابطگیوں کو روکنے میں ناکام ہیں تو پھر راولپنڈی جیسے بڑے کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامی ذمہ داری کے بارے میں اعلیٰ حکام کو سنجیدگی سے فیصلہ کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں