
از قلم : زاہد اقبال بھیل
اسلام عورت کی عزت، عصمت اور جان و آبرو کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ شریعتِ اسلامی نے عورت کی زندگی کے ہر مرحلے میں ایسے اصول مقرر کیے ہیں جو اس کے وقار اور سلامتی کے ضامن ہیں۔ زیرِ نظر حدیثِ نبویؐ عورت کے اسی تحفظ اور احترام پر مبنی ایک جامع ہدایت پیش کرتی ہے۔
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقُوْلُ:”لَایَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلَّا وَمَعَھَا ذُوْ مَحْرَمٍ،وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ إِلَّا مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ” فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!إِنَّ امْرَأَتِيْ خَرَجَتْ حَاجَّۃً،وَإِنِّي اکْتُتِبْتُ فِيْ غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ:”اِنْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِکَ‘‘(متفق علیہ)
ترجمہ :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے مگر اس حالت میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم رشتے دار ہو۔اور عورت محرم رشتے دار کے بغیر سفر نہ کرے۔تو آپ سے ایک آدمی نے سوال کیا!اے اللہ کے رسول!میری بیوی حج کے لیے جارہی ہے؟ اور میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا جاچکا ہے؟(یعنی اب میرے لیے کیا حکم ہے؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔(بخاری ومسلم)
یہ حدیث عورت کے بارے میں اسلامی تصورِ تحفظ کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اسلام نے عورت کی آزادی کو بے قید نہیں چھوڑا بلکہ اسے وقار اور سلامتی کے دائرے میں رکھا ہے۔ محرم کے بغیر تنہائی یا سفر کی ممانعت دراصل عورت پر پابندی نہیں بلکہ اس کے لیے ایک حفاظتی حصار ہے، تاکہ وہ کسی فتنے، الزام یا خطرے کا شکار نہ ہو۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی عزت و سلامتی کو بعض اوقات عظیم عبادات اور اجتماعی فرائض پر بھی ترجیح دی جاتی ہے۔ جہاد جیسا عظیم عمل ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابیؓ کو اپنی بیوی کے ساتھ حج کرنے کا حکم دیا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عورت کے حقوق اور اس کا تحفظ اسلام میں کس قدر اہم ہے۔
مزید برآں، تنہائی سے ممانعت انسانی فطرت اور معاشرتی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر دی گئی ہے۔ اسلام انسان کو صرف گناہ سے نہیں بلکہ گناہ کے اسباب سے بھی بچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلوت اور غیر محفوظ سفر جیسے امور سے روکا گیا، تاکہ معاشرہ پاکیزگی اور اعتماد پر قائم رہے۔
یہ حدیث عورت کے مقام اور اس کے تحفظ کے اسلامی تصور کی ایک روشن مثال ہے۔ اسلام عورت کو معاشرے میں باعزت، محفوظ اور مطمئن زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے اور مرد کو اس کی ذمہ داری سونپتا ہے کہ وہ اس تحفظ میں شریک بنے۔ یہی توازن اسلامی معاشرت کی خوب صورتی اور حکمت کا مظہر ہے۔