لاہور:امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور ممتاز رہنما، دانشور، مدبر، مفسرِ قرآن اور تحریکِ اسلامی کے عظیم سپاہی امیرالعظیمؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امیرالعظیمؒ کی رحلت جماعت اسلامی ہی نہیں بلکہ پوری دینی، ملی اور فکری دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی ذات اخلاص، وفا، حلم، تقویٰ، استقامت اور حسنِ اخلاق کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ایک ایسے درویش صفت انسان تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی، اقامتِ دین کی جدوجہد اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔انہوں نے کہا کہ امیرالعظیمؒ ان خوش نصیب بندگانِ خدا میں سے تھے جنہوں نے دنیا کی چمک دمک، اقتدار، شہرت اور مال و دولت کو کبھی اپنی منزل نہیں بنایا بلکہ اپنی ہر صلاحیت، ہر لمحہ اور ہر سانس کو اللہ کی رضا اور اس کے دین کی خدمت کے لیے وقف رکھا۔ ان کی پوری زندگی اس قرآنی تعلیم کی عملی تصویر تھی کہ “بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ مرحوم کی گفتگو میں علم کی گہرائی، فکر کی پختگی، دعوت کا درد، امت کی خیرخواہی اور دلوں کو جوڑنے والی محبت نمایاں ہوتی تھی۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اخلاق، حلم، برداشت اور حکمت کے ساتھ دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیا اور کارکنان کی تربیت اپنے کردار سے کی۔انہوں نے کہا کہ امیرالعظیمؒ بیماری کے طویل عرصے میں بھی صبر و رضا، توکل علی اللہ اور استقامت کا عظیم نمونہ بنے رہے۔ ان کے چہرے پر کبھی شکوہ نہ آیا، زبان پر ہمیشہ اللہ کا ذکر رہا اور دل میں آخرت کی تیاری کا جذبہ موجزن رہا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی سے یہ سبق دیا کہ ایک مومن ہر حال میں اپنے رب پر راضی رہتا ہے اور آزمائشوں کو بھی قربِ الٰہی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ امیرالعظیمؒ آج جسمانی طور پر ہم سے جدا ضرور ہوگئے ہیں، مگر ان کی مسکراہٹ، عاجزی، شفقت، نظریاتی پختگی، بے مثال استقامت، کارکنان سے محبت، علم و فکر کا سرمایہ اور دین سے غیر متزلزل وابستگی ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا روشن مینار ہیں جس کی روشنی مدتوں اہلِ حق کی راہوں کو منور کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو اپنے کردار سے قوموں کی تعمیر کرتے ہیں۔ امیرالعظیمؒ نے عمارتیں نہیں بلکہ انسان تعمیر کیے، اقتدار نہیں بلکہ کردار چھوڑا، دولت نہیں بلکہ اخلاص کی ایسی روایت چھوڑی جو تحریکِ اسلامی کے کارکنان کے لیے ہمیشہ سرمایۂ افتخار رہے گی۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اخلاص کے ساتھ گزارا گیا ایک لمحہ بھی کبھی ضائع نہیں جاتا۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے دعا کی کہ اللہ رب العزت اپنے اس مخلص بندے کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، انہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت عطا فرمائے، ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور جماعت اسلامی، اہلِ خانہ، رفقائے کار اور تمام وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
